پی ٹی آئی میں اختلافات کی تردید، بیرسٹر گوہر کا سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ رکھنے کا اعلان

پشاور: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں اور مشکل حالات کے باوجود عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے بقول ارکان صوبائی اسمبلی کے پارٹی کے خلاف جانے کا کوئی تصور نہیں اور انہیں اپنے ارکان پر فخر ہے۔
بیرسٹر گوہر نے علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجا اور علی اصغر سے رابطہ کیا اور ارکان کو پارٹی سے متعلق غیر ضروری بیانات سے روک دیا۔ انہوں نے قائدین کو باہمی اختلافات ختم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں فیصلے عمران خان کے ہی چلیں گے اور سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ ہیں اور رہیں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اسلام آباد میں کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں۔ انہوں نے وزارتِ اعلیٰ، پارٹی قیادت اور فارورڈ بلاک کے خدشات سے متعلق خبروں کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو بانی چیئرمین نے ذمہ داریاں سونپی ہیں اور قائدِ حزبِ اختلاف کی تبدیلی بانی کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈوگر نے کہا کہ بانی کی رضامندی کے بغیر کوئی اور وزیراعلیٰ نہیں بن سکتا اور آفریدی کو ہٹانے کی کوشش پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے 10 سے زائد ارکان قومی اسمبلی جیل میں ہیں، اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں حکومت سے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جب 4 اکتوبر کو شروع ہونے والے پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے بعد مذاکرات ناکام ہوئے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے دو ماہ کے لیے اس کی توثیق کی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی پر پابندی ضروری نہیں رہی۔
علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو میں وہ سلمان اکرم راجا کی بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کو صوبائی حکومت کی برطرفی کا ذمہ دار ٹھہراتے سنائی دیتے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جنید اکبر خیبرپختونخوا میں پارٹی کے صدر ہیں اور علی اصغر قائم مقام صدر ہیں۔











