امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیاب

واشنگٹن: امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سب سے بڑی کامیابی ریاست مشی گن میں سامنے آئی جہاں ڈیموکریٹ ڈاکٹر عبدالسید سینیٹ کے لیے منتخب ہو گئے۔ سی بی ایس نیوز اور اے پی کے مطابق وہ امریکی سینیٹ میں پہنچنے والے پہلے مسلمان ہیں۔
انتخابات سے پہلے مسلم نیٹ ورک ٹی وی کے جائزے کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 51 مسلمان امیدوار مختلف عہدوں کے لیے میدان میں تھے۔
الہان عمر
امریکی میڈیا میں رپورٹ ہونے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق صومالی نژاد الہان عمر ریاست مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل حلقے سے ایک بار پھر کامیاب ہو گئی ہیں۔ ان نتائج کے مطابق انہیں 62.77 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کے ری پبلکن مخالف جان نیگل کو 28.31 فیصد ووٹ ملے۔

رشیدہ طلیب
فلسطینی نژاد رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب بھی، ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق، ریاست مشی گن سے دوبارہ منتخب ہو گئی ہیں۔ وہ اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے والی نمایاں آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر آدم حماوی
ریاست نیو جرسی کے بارہویں کانگریشنل حلقے سے مصری نژاد سرجن ڈاکٹر آدم حماوی کی کامیابی کی اطلاعات ہیں۔ وہ امریکی فوج میں سرجن رہ چکے ہیں اور غزہ میں رضاکارانہ طبی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے جون میں ڈیموکریٹک پرائمری جیتی تھی۔ کامیابی کی صورت میں وہ نیو جرسی سے کانگریس پہنچنے والے پہلے مسلمان ہوں گے۔
باقی نتائج کا انتظار
ریاست انڈیانا سے مسلمان رکنِ کانگریس آندرے کارسن کے حلقے کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔ کئی دوسرے مسلمان امیدواروں کی ریاستی اور مقامی سطح پر کامیابی کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔
یہ نتائج ابتدائی اور غیر سرکاری ہیں؛ سرکاری نتائج کا اعلان ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریاستیں کریں گی۔
سرورق تصویر: ویکی میڈیا کامنز / WMrapids (CC0)











