رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹپاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کا ٹائٹل دفاع کرنے کے لیے پرعزم: شاہد انورگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان
مارکیٹ
KSE-100172,013▲2.32%KMI-30246,398▲2.36%ڈالر276.53روپےیورو309.51روپےپاؤنڈ370.97روپےریال73.74روپےدرہم75.30روپےسونا فی تولہ419,271روپےسونا4,043$/اونسچاندی52.12$/اونسبٹ کوائن78,683$▲1.59%

ریفائنریوں کا پیٹرول کے نئے نرخ فارمولے کی واپسی کا مطالبہ، 49.02 روپے فی لیٹر کی کٹوتی پر احتجاج

ریفائنریوں کا پیٹرول کے نئے نرخ فارمولے کی واپسی کا مطالبہ، 49.02 روپے فی لیٹر کی کٹوتی پر احتجاج
فائل فوٹو: نیشنل ریفائنری، کراچی — تصویر: بشکریہ thenews.com.pk

اسلام آباد: ملک کی چاروں تیل صاف کرنے والی کمپنیوں نے وفاقی حکومت سے پیٹرول کی قیمت کے تعین کا نیا طریقہ کار فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس فارمولے کے تحت انہیں 49.02 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کی مد میں دینا ہوں گے۔

اٹاک ریفائنری، سینرجیکو پی کے، نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری کے سربراہان نے وزیر پیٹرولیم کو مشترکہ مراسلہ بھیجا۔ اس میں کہا گیا کہ یہ اقدام یکطرفہ ہے اور اس سے ریفائنریوں کی مالی استعداد اور براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کے تحت طے شدہ سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔ انہوں نے اسی ہفتے وزیر سے ملاقات کا وقت بھی مانگا ہے۔

وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو قیمتوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دی، جو 31 اکتوبر سے نافذ ہوئی۔ اس کے تحت درآمدی پیٹرول کی قیمت پی ایس او کی متعلقہ کھیپ کی اصل لاگت پر طے ہوتی ہے، اور تازہ لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کھیپ کے پریمیم، متفرق اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ مقامی ریفائنریوں کے لیے یہ اجزا 7 مارچ 2026 کی جنگ سے پہلے کی سطح پر 30 دن کے لیے منجمد کیے گئے ہیں۔ درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع ہوگا۔

ریفائنریوں کا مؤقف ہے کہ جنگ کے باعث خام تیل کی خریداری، مال برداری، انشورنس اور فنانسنگ کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، اس لیے پرانے اجزا سے لاگت پوری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق لیوی عموماً قیمتوں کے ذریعے وصول ہوتی ہے، مگر اب یہ بوجھ ریفائنریوں پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کا نوٹیفکیشن ”اگلے حکم تک“ ہے جبکہ کابینہ کی ہدایت 30 دن کی ہے۔

انہوں نے اپ گریڈ معاہدے کی شق 7، 8.1 اور 22.2 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے پالیسی کے استحکام کی یقین دہانی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی مشاورت سے ہوتی تھی، اس بار سنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے 7 مارچ کی قیمتوں کی بندش ختم کرنے، 31 اکتوبر سے پہلے کا فارمولا بحال کرنے اور اوگرا کو فوری ہدایات دینے کا مطالبہ کیا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ریفائنریوں کے تعاون سے جمعہ کو متوقع تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ روکا گیا۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً 70 فیصد پیٹرول ضرورت درآمد سے اور 30 فیصد مقامی ریفائنریوں سے پوری ہوتی ہے۔

اشتہار