ریفائنریوں کا پیٹرول کے نئے نرخ فارمولے کی واپسی کا مطالبہ، 49.02 روپے فی لیٹر کی کٹوتی پر احتجاج

اسلام آباد: ملک کی چاروں تیل صاف کرنے والی کمپنیوں نے وفاقی حکومت سے پیٹرول کی قیمت کے تعین کا نیا طریقہ کار فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس فارمولے کے تحت انہیں 49.02 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کی مد میں دینا ہوں گے۔
اٹاک ریفائنری، سینرجیکو پی کے، نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری کے سربراہان نے وزیر پیٹرولیم کو مشترکہ مراسلہ بھیجا۔ اس میں کہا گیا کہ یہ اقدام یکطرفہ ہے اور اس سے ریفائنریوں کی مالی استعداد اور براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کے تحت طے شدہ سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔ انہوں نے اسی ہفتے وزیر سے ملاقات کا وقت بھی مانگا ہے۔
وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو قیمتوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دی، جو 31 اکتوبر سے نافذ ہوئی۔ اس کے تحت درآمدی پیٹرول کی قیمت پی ایس او کی متعلقہ کھیپ کی اصل لاگت پر طے ہوتی ہے، اور تازہ لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کھیپ کے پریمیم، متفرق اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ مقامی ریفائنریوں کے لیے یہ اجزا 7 مارچ 2026 کی جنگ سے پہلے کی سطح پر 30 دن کے لیے منجمد کیے گئے ہیں۔ درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع ہوگا۔
ریفائنریوں کا مؤقف ہے کہ جنگ کے باعث خام تیل کی خریداری، مال برداری، انشورنس اور فنانسنگ کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، اس لیے پرانے اجزا سے لاگت پوری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق لیوی عموماً قیمتوں کے ذریعے وصول ہوتی ہے، مگر اب یہ بوجھ ریفائنریوں پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کا نوٹیفکیشن ”اگلے حکم تک“ ہے جبکہ کابینہ کی ہدایت 30 دن کی ہے۔
انہوں نے اپ گریڈ معاہدے کی شق 7، 8.1 اور 22.2 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے پالیسی کے استحکام کی یقین دہانی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی مشاورت سے ہوتی تھی، اس بار سنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے 7 مارچ کی قیمتوں کی بندش ختم کرنے، 31 اکتوبر سے پہلے کا فارمولا بحال کرنے اور اوگرا کو فوری ہدایات دینے کا مطالبہ کیا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ریفائنریوں کے تعاون سے جمعہ کو متوقع تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ روکا گیا۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً 70 فیصد پیٹرول ضرورت درآمد سے اور 30 فیصد مقامی ریفائنریوں سے پوری ہوتی ہے۔











