فرانس: احتجاج میں پولیس کے بم سے سینٹ ایٹین میں مظاہرین کا ہاتھ ضائع، غیر مہلک ہتھیاروں پر بحث

پیرس: فرانس میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے بموں سے مظاہرین کے ہاتھ ضائع ہونے کے واقعات نے غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وسطی فرانس کے شہر سینٹ ایٹین میں ایک مظاہرہ کرنے والا اپنا ہاتھ کھو بیٹھا، جبکہ اس سے قبل شمالی فرانس کے شہر لانس میں 15 سالہ طالب علم بھی اسی نوعیت کے واقعے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیس سے واقف ذرائع نے بتایا کہ سینٹ ایٹین میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے داغے گئے ایک بم کے دھماکے سے ایک مظاہرین اپنا ہاتھ کھو بیٹھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب فرانس میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔
اس سے قبل اکتوبر کے اوائل میں شمالی فرانس کے شہر لانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بموں سے شدید زخمی ہونے کے واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس کے طریقہ کار اور غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔











