پاک ایران سرحد کی بندش پر زمینی معلومات نہیں، زائرین کی آمد و رفت جاری: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ایران سرحد کی بندش سے متعلق ان کے پاس زمینی معلومات نہیں ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان زائرین کی آمد و رفت جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان ثالث کے کردار میں امریکا اور ایران دونوں سے رابطے میں ہے اور کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا ایجنڈا امریکا اور ایران کو خود طے کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی اور ملکی ذمہ داریوں کے مطابق عالمی پابندیوں پر عمل درآمد کا پابند ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ یہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہے اور اس کا مقصد اجتماعی دفاع، تدارک اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب توثیق کا عمل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترک پارلیمان اس پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ دفاعی ہے، کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں اور اس میں کوئی خفیہ شق نہیں۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک متعلقہ شق کے تحت مشترکہ فیصلہ کریں گے۔ پاکستان نے حملوں کی شدید مذمت کی اور یمن کی صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی۔
اناطولیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا اور ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستانی فوج کی تعیناتی کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے جمعے کو سعودی عرب میں “نمایاں” تعداد میں فوجی اہلکار اور وسائل تعینات کرنے کی تصدیق کی۔
ترجمان نے بدر مفاہمتی یادداشت کو اہم قرار دیا، جو پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں ممالک اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔
مارکو روبیو کے پاکستان کے جوہری ریاست ہونے سے متعلق بیان کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تجارت و سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات مضبوط ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کو انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان قرار دیتے ہوئے مستقبل کے لیے مثال کہا۔
افغانستان کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر افغان سرزمین سے لاحق خطرات ختم ہونے چاہئیں اور دہشت گردی پر قابو کے لیے قابل تصدیق نظام درکار ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد عسکریت پسند گروہ موجود ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی دعوت پر استنبول پہنچے ہیں جہاں آر فور اور آر فور پلس ای تھری وزرائے خارجہ اجلاس ہوں گے۔











