رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹپاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کا ٹائٹل دفاع کرنے کے لیے پرعزم: شاہد انورگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان

کرن بلوچ کی انسدادِ تشددِ اطفال کی پہلی قومی حکمتِ عملی 2026–2031 کی تقریبِ رونمائی میں شرکت

کرن بلوچ کی انسدادِ تشددِ اطفال کی پہلی قومی حکمتِ عملی 2026–2031 کی تقریبِ رونمائی میں شرکت
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

اسلام آباد: بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (BCSW) کی چیئرپرسن کرن بلوچ نے وزارتِ انسانی حقوق کی دعوت پر پاکستان کی پہلی قومی حکمتِ عملی برائے انسدادِ تشددِ اطفال (2026–2031) کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کی۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے متعارف کرائی گئی اس حکمتِ عملی کا مقصد بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنا، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

کرن بلوچ نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ اہم قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو تحفظ، تعلیم، عزت و احترام اور صلاحیتیں نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی، موجودہ قوانین پر عملدرآمد، عوامی آگاہی اور متاثرہ بچوں کو بروقت معاونت ناگزیر ہے، اور ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں بچے بلا خوف شکایت کر سکیں اور انہیں فوری انصاف اور تحفظ ملے۔

چیئرپرسن بی سی ایس ڈبلیو نے کہا کہ بچیوں کو بالخصوص تشدد، استحصال، کم عمری کی شادی اور دیگر امتیازی رویوں سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی حکمتِ عملی پر مؤثر عملدرآمد سے بچوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور محفوظ و منصفانہ معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

موضوعات:
اشتہار