ابو جعفر المنصور: بغداد کا گول شہر بسانے والا عباسی خلیفہ
آج کا بغداد دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، مگر 762ء سے پہلے دجلہ کے مغربی کنارے پر یہاں صرف ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ اس بستی کو ایک شاندار دارالحکومت میں بدلنے والے عباسی خلیفہ ابو جعفر…

آج کا بغداد دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، مگر 762ء سے پہلے دجلہ کے مغربی کنارے پر یہاں صرف ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ اس بستی کو ایک شاندار دارالحکومت میں بدلنے والے عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور (al-Mansur) تھے، جنہوں نے 754ء سے 775ء تک حکومت کی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق وہ عباسی خاندان کے دوسرے خلیفہ تھے اور انہیں عام طور پر عباسی خلافت کا اصل بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان کی سب سے دیرپا یادگار بغداد ہے۔
ابتدائی زندگی
برٹانیکا کے مطابق منصور 709ء اور 714ء کے درمیان الحمیمہ (al-Humaymah) میں پیدا ہوئے، جو اس وقت شام کا حصہ تھا اور آج اردن میں ہے۔ یہ قصبہ 687ء۔688ء سے عباسی خاندان کا گھر تھا۔ ان کے والد محمد، حضرت عباس کے پڑپوتے تھے، اور ان کی والدہ بربر نسل سے تھیں۔
تخت نشینی اور ہاشمیہ
پہلے عباسی خلیفہ ابو العباس السفاح، منصور کے بھائی تھے۔ برٹانیکا کے مطابق 754ء میں صرف پانچ برس کی خلافت کے بعد ان کا انتقال ہوا، اور خلافت منصور کو ملی۔
برطانوی ماہرِ جغرافیہ گائی لی سٹرینج (Guy Le Strange) کے مطابق سفاح فرات کے کنارے انبار کے پاس "ہاشمیہ" نامی محل میں رہتے تھے، جس کا نام خاندان کے جدِ امجد ہاشم کے نام پر تھا۔ منصور نے خلیفہ بننے کے بعد اسی نام کی ایک دوسری رہائش گاہ کوفہ کے قریب بنوائی، مگر جلد ہی اسے دارالحکومت کے لیے نامناسب سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اس کا صحیح مقام آج بھی طے نہیں۔
نئے دارالحکومت کی تلاش
لی سٹرینج کے مطابق منصور نے نئے دارالحکومت کے لیے کئی سفر کیے اور دجلہ کے کنارے کنارے جرجرایا سے موصل تک جگہیں دیکھیں۔ آخرکار دجلہ کے مغربی کنارے پر ایک فارسی بستی "بغداد" کا انتخاب ہوا، جو صراۃ نہر کے دجلہ میں گرنے کی جگہ سے ذرا اوپر تھی۔
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق یہ جگہ ساسانی دارالحکومت طیسفون (Ctesiphon) کے قریب تھی، اور برٹانیکا کے مطابق منصور نے طیسفون کے کھنڈرات سے تعمیری سامان لانے پر بھی غور کیا تھا۔ ایرانیکا کے مطابق شہر کا سرکاری نام "مدینۃ السلام"، یعنی سلامتی کا شہر، رکھا گیا۔
گول شہر کی تعمیر
لی سٹرینج کے مطابق منصور نے 145 ہجری، یعنی 762ء میں نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ 763ء تک تعمیر اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ خزانہ اور سرکاری دفاتر (دیوان)، جو عارضی طور پر کوفہ میں تھے، بغداد منتقل کر دیے گئے۔ اس کے بعد ایک لاکھ کاریگر مسلسل کام کرتے رہے، اور 766ء میں "منصور کا گول شہر" مکمل ہو گیا۔ لی سٹرینج کے مطابق کاریگر شام، موصل، ایران اور بابل کے علاقے سے بلائے گئے تھے، اور ان کے ساتھ ماہر معمار اور زمین ناپنے والے بھی تھے۔
شہر کا نقشہ پہلے زمین پر راکھ کی لکیروں سے کھینچا گیا، اور اسے نمایاں کرنے کے لیے لکیروں کے ساتھ ساتھ تیل میں بھیگے روئی کے گولے رکھ کر جلائے گئے۔
نقشہ اور دروازے
لی سٹرینج کے مطابق شہر ہم مرکز دائروں کی شکل میں تھا: باہر دو فصیلیں، ان کے باہر پانی سے بھری ایک گہری خندق، اور اندر بیچ کے میدان کے گرد ایک تیسری دیوار۔ ہر دائرے میں برابر فاصلے پر چار دروازے تھے۔ جنوب مغرب میں کوفہ دروازہ اور جنوب مشرق میں بصرہ دروازہ صراۃ نہر کی طرف کھلتے تھے؛ شمال مشرق میں خراسان دروازہ دجلہ پر کشتیوں کے بڑے پل کی طرف جاتا تھا؛ اور شمال مغرب میں شام دروازہ انبار کی شاہراہ سے ملتا تھا۔ ہر دروازے سے ایک سڑک پہیے کی تیلیوں کی طرح بیچ کے میدان تک جاتی تھی۔
شہر کے سائز کے بارے میں قدیم مصنفین کے اعداد مختلف ہیں۔ مورخ یعقوبی کے مطابق باہر ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک فاصلہ تقریباً سوا دو کلومیٹر تھا۔ لی سٹرینج لکھتے ہیں کہ گول شہر کا یہ نقشہ اس دور کے مسلم شہروں میں ایک نئی چیز تھا اور غالباً ایران سے لیا گیا تھا۔ ایرانیکا کے مطابق ساسانی ایران کے دارابگرد اور فیروزآباد بھی گول شہر تھے اور بغداد کی طرح ان کے بھی چار بڑے دروازے تھے۔
لی سٹرینج کے مطابق دیواریں دھوپ میں سکھائی گئی بہت بڑی کچی اینٹوں سے بنیں، اور اندر کی بڑی فصیل تقریباً 90 فٹ اونچی تھی۔
سبز گنبد والا محل
شہر کے بالکل بیچ میں خلیفہ کا محل تھا، جو "باب الذہب" (سنہری دروازہ) یا "القبۃ الخضراء" (سبز گنبد) کہلاتا تھا، اور اس کے ساتھ جامع مسجد تھی۔ لی سٹرینج کے مطابق منصور کا خیال تھا کہ حکمران کو سب کے بیچ میں اور سب سے برابر فاصلے پر رہنا چاہیے۔ محل کا رقبہ تقریباً دو سو گز مربع تھا، اور اس کا سبز گنبد زمین سے تقریباً 120 فٹ اونچا تھا، جس کی چوٹی پر ایک گھڑسوار کا مجسمہ تھا؛ اس مجسمے کے بارے میں بعد میں کئی افسانے مشہور ہوئے۔ یہ گنبد 941ء میں ایک طوفان کے دوران گر گیا۔
ایرانیکا کے مطابق محل میں ایرانی طرز کا ایوان تھا جس کے پیچھے گنبد والا کمرہ تھا، اور مسجد اینٹوں کی دیواروں اور لکڑی کے ستونوں پر ٹکی ہموار چھت والی عمارت تھی۔
انتظام، بازار اور نئے محلے
برٹانیکا کے مطابق نیا دارالحکومت بنانے کی ایک وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی سرکاری مشینری کو جگہ دینا تھی، جسے منصور نے ایرانی انتظامی تصورات کے زیرِ اثر ترقی دی۔ جرمن مورخ یولیوس ویلہاؤزن (Julius Wellhausen) کے مطابق منصور اموی خلیفہ ہشام کے منظم خزانے اور دیوان کو ایک مثال کے طور پر سراہتے تھے۔ لی سٹرینج کے مطابق بیچ کے میدان کے گرد اسلحہ خانہ، سرکاری خط و کتابت، زمینی محصول، شاہی مہر، فوج، تعمیرات اور تنخواہوں کے دفاتر قائم تھے۔
برٹانیکا کے مطابق بغداد دجلہ کے کنارے اس مقام پر واقع ہے جہاں یہ دریا فرات کے سب سے قریب آتا ہے، یعنی تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر، اور دونوں دریا نہروں کے ذریعے جڑے ہوئے تھے۔ لی سٹرینج کے مطابق شروع میں بازار شہر کے دروازوں سے آنے والی چاروں سڑکوں کے محرابی برآمدوں میں تھے، مگر کچھ برس بعد منصور نے تمام دکانیں شہر سے باہر منتقل کر کے تاجروں کے لیے کرخ کا مضافاتی علاقہ بسایا۔
157 ہجری (773ء۔774ء) میں منصور نے خراسان دروازے کے باہر دجلہ کے کنارے "الخلد" نامی ایک نیا محل بنوایا۔ ایرانیکا کے مطابق 768ء میں ان کے بیٹے اور ولی عہد المہدی نے دجلہ کے مشرقی کنارے پر ایک نئی آبادی قائم کی۔ یوں بغداد دونوں کناروں پر پھیلنے لگا۔
وفات
برٹانیکا کے مطابق منصور دراز قد اور دبلے تھے، رنگ گندمی اور داڑھی ہلکی تھی، اور ان کے بارے میں بہت سے قصے ان کی سادہ زندگی، کفایت شعاری اور شعر سے محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا انتقال 7 اکتوبر 775ء کو مکہ جاتے ہوئے راستے میں ہوا، اور انہیں مکہ کے قریب دفن کیا گیا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے المہدی خلیفہ بنے، اور بعد کے تمام عباسی خلفا انہی کی نسل سے تھے۔
ورثہ
ایرانیکا کے مطابق بغداد 762ء سے 1258ء تک، ایک مختصر وقفے کے سوا، عباسی خلفا کا گھر رہا، اور دسویں صدی کے آخر تک عربی علم و ادب کا سب سے اہم مرکز اور غالباً مسلم دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ لی سٹرینج کے مطابق کچی اینٹوں سے بنے گول شہر کے آثار آج باقی نہیں، مگر اس کا نقشہ عرب جغرافیہ دانوں کی تحریروں کے ذریعے محفوظ ہے، اور منصور کا بسایا ہوا شہر آج بھی دجلہ کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔
ماخذ
- Britannica Editors, "al-Manṣūr", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/al-Mansur-Abbasid-caliph
- Britannica Editors, "Baghdad", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/place/Baghdad
- Guy Le Strange, Baghdad during the Abbasid Caliphate, from Contemporary Arabic and Persian Sources, Clarendon Press, Oxford, 1900 (chapters I–II). https://archive.org/details/bub_gb_rdcoAAAAYAAJ
- Hugh Kennedy, "BAGHDAD i. The Iranian Connection: Before the Mongol Invasion", Encyclopaedia Iranica, 1988. https://www.iranicaonline.org/articles/baghdad-i/
- Julius Wellhausen, The Arab Kingdom and Its Fall, trans. Margaret Graham Weir, University of Calcutta, 1927 (on al-Mansur's regard for Hisham's diwan). https://archive.org/details/arabkingdomandit029490mbp







