براہوی: ایک زبان، ایک معمہ
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ بلوچ قبائل کرمان اور مکران کی طرف سے آتے ہوئے کس طرح اس خطے میں آباد ہوئے۔ مگر قلات کے گرد پہاڑوں میں ایک اور زبان بھی بولی جاتی ہے جو نہ بلوچی…

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ بلوچ قبائل کرمان اور مکران کی طرف سے آتے ہوئے کس طرح اس خطے میں آباد ہوئے۔ مگر قلات کے گرد پہاڑوں میں ایک اور زبان بھی بولی جاتی ہے جو نہ بلوچی جیسی ہے، نہ فارسی جیسی، نہ پشتو جیسی۔ یہ براہوی ہے۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق اس کا رشتہ جنوبی ہند کی دراوڑی زبانوں، یعنی تمل، تیلگو اور کنڑ کے خاندان سے ہے۔ اور یہی وہ سوال ہے جسے لگ بھگ ایک صدی سے "براہوی کا معمہ" کہا جاتا ہے: دراوڑی خاندان کی ایک زبان بلوچستان کے پہاڑوں میں کیسے پہنچی، جب کہ برے کے الفاظ میں یہ اپنے رشتہ داروں سے سینکڑوں میل دور ایک الگ تھلگ جزیرہ ہے؟
زبان کہاں بولی جاتی ہے
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں جوزف ایلفن بائن (Josef Elfenbein) کے مضمون "براہوی" کے مطابق براہوی بولنے والوں کا بنیادی علاقہ ایک تنگ پٹی ہے جو کوئٹہ کے کچھ جنوب سے شروع ہو کر نوشکی، قلات اور خضدار سے گزرتی ہوئی لسبیلہ تک جاتی ہے، یعنی وہی علاقہ جسے تاریخی طور پر سراوان اور جھالاوان کہا جاتا ہے۔ ایلفن بائن کے مطابق زبان میں بولیوں کا کوئی بڑا فرق نہیں؛ قابلِ ذکر فرق بس "ہ" کی ادائیگی کا ہے، جو شمال کے سراوانی اور جنوب کے جھالاوانی بولنے والوں میں الگ الگ ہے۔
برے کے مطابق 1931ء کی مردم شماری میں بلوچستان میں 162,688 اور پورے ہندوستان میں سوا دو لاکھ سے کم براہوی شمار ہوئے۔ ایرانیکا کے مطابق مردم شماریوں میں براہوی قبائلیوں اور براہوی کو مادری زبان کہنے والوں میں خلط ملط ہوتا رہا ہے۔
یورپی اہلِ علم کی نظر میں
انیسویں صدی کے وسط میں رابرٹ کالڈویل (Robert Caldwell) نے اپنی مشہور کتاب "اے کمپیریٹو گرامر آف دی ڈریوڈین اور ساؤتھ انڈین فیملی آف لینگویجز" (1856ء) میں دراوڑی زبانوں کو سنسکرت سے الگ ایک مستقل خاندان ثابت کیا، مگر براہوی کے بارے میں ان کا ذہن پوری طرح صاف نہ تھا؛ وہ اسے پنجابی اور سندھی کے ماخذ سے جوڑتے اور اس میں محض ایک دراوڑی عنصر مانتے تھے۔ ایرانیکا کے مطابق اس سوال کا پہلا باقاعدہ علمی جواب جرمن عالم ارنسٹ ٹرمپ (Ernst Trumpp) نے 1880ء میں دیا؛ ان کا مقالہ باویریا کی اکادمیِ علوم کے مجلے میں چھپا اور اسے براہوی پر پہلی سائنسی تحقیق سمجھا جاتا ہے۔ ایرانیکا لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے ثابت کیا کہ براہوی کی بنیاد دراوڑی ہے، اور یوں کالڈویل کے شکوک کا جواب دیا، اگرچہ کالڈویل کی کتاب کے 1913ء کے ایڈیشن میں بھی یہ شکوک پوری طرح دور نہ ہوئے۔
اس کے بعد سب سے بڑا کام برطانوی ہند کے ایک افسر اور عالم ڈینس برے (Denys Bray) کا ہے۔ ان کی کتاب "دی براہوی لینگویج" کا پہلا حصہ، جو تعارف اور قواعد پر مشتمل ہے، 1909ء میں کلکتہ سے چھپا۔ 1913ء میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی نے ان کی کتاب "دی لائف ہسٹری آف اے براہوی" شائع کی، جس میں مرزا شیر محمد کی بیان کردہ روایات اور رسوم درج ہیں۔ 1934ء میں دہلی سے اسی کتاب کے مزید حصے آئے: حصہ دوم کا عنوان ہی "دی براہوی پرابلم" یعنی "براہوی کا مسئلہ" تھا اور حصہ سوم ایک اشتقاقی لغت۔ ایرانیکا کے مطابق یہیں برے نے اس سوال کو یہ نام دیا۔
زبان کی ساخت
ایرانیکا کے مطابق براہوی میں ایک، دو اور تین کے لیے اپنے یعنی دراوڑی گنتی کے الفاظ موجود ہیں — اَسِط، اِرَط اور مُسِط — مگر چار اور اس سے آگے کی تمام گنتی بلوچی سے لی گئی ہے۔ یعنی زبان کا سب سے بنیادی ذخیرہ دراوڑی ہے اور اس پر صدیوں کے پڑوس کی ایک موٹی تہ چڑھی ہوئی ہے۔
ایرانیکا میں ایلفن بائن کا محتاط اندازہ ہے کہ براہوی کے الفاظ کا تقریباً بیس فیصد بلوچی سے آیا ہے، جبکہ اصل دراوڑی الفاظ صرف پندرہ فیصد کے قریب ہیں۔ فارسی اور عربی کے الفاظ بھی بڑی تعداد میں ہیں، تقریباً پینتیس فیصد، اور سندھی و سرائیکی (جٹکی) کا اثر بھی ذخیرۂ الفاظ میں صاف ہے، اگرچہ ایلفن بائن کے بقول یہ زبان کی گہری ساخت تک نہیں پہنچا۔ ایلفن بائن کے مطابق براہوی کا کرخ اور مالتو کے ساتھ دراوڑی خاندان کی شمالی شاخ سے تعلق اب خاصی حد تک ثابت ہو چکا ہے۔
معمے کی دو بڑی توضیحات
اب اصل سوال: یہ زبان یہاں کیسے آئی؟ اس پر دو بڑی آرا ہیں، اور کوئی بھی طے شدہ نہیں۔
پہلی رائے، جسے ایرانیکا سب سے عام نظریہ کہتا ہے، یہ ہے کہ براہوی اس دراوڑی آبادی کی باقیات ہیں جو تیسرے ہزارۂ قبل مسیح میں شمال مغرب سے ہندوستان میں داخل ہوئی، اور جس کا ایک حصہ سراوان اور جھالاوان ہی میں رہ گیا۔ اس رائے کے بعض حامل، جن میں خود برے بھی شامل تھے، اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب سے بھی جوڑتے ہیں، مگر یہ جوڑ تخمینی ہے کیونکہ، جیسا کہ برے نے خود لکھا، وادیٔ سندھ کی مہروں کی تحریر پڑھی نہیں جا سکی۔
دوسری رائے یہ ہے کہ براہوی بولنے والے اس علاقے میں بہت بعد میں آئے۔ ایلفن بائن نے اپنے مقالے "اے پیری پلس آف دی براہوی پرابلم" (1987ء) میں اسی رائے کے دلائل دیے۔ ایرانیکا میں ان کے اپنے مضمون کے مطابق فرانسیسی ماہر ژول بلوخ (Jules Bloch) کی 1924ء میں پیش کردہ یہ رائے زیادہ قابلِ قبول ہے کہ براہوی مغربی دکن سے نسبتاً حالیہ مہاجر ہیں، جو غالباً ساتویں صدی کے لگ بھگ چھوٹے گروہوں میں چل پڑے اور بارہویں صدی یا اس سے کچھ پہلے قلات کی بلندیوں تک آ گئے۔
تحریری تاریخ اس سوال میں کم مدد دیتی ہے۔ ایرانیکا کے مطابق براہویوں کا پہلا یقینی تحریری ذکر سترہویں صدی کی مغل تحریروں میں خانیتِ قلات کے حوالے سے ملتا ہے، اور اس سے پہلے کی تاریخ قیاس پر مبنی ہے۔
جسمانی شواہد کیا بتاتے ہیں
جسمانی شواہد بھی کچھ طے نہیں کرتے۔ ایرانیکا کے مطابق جسمانی طور پر براہوی اپنے جٹ اور بلوچ پڑوسیوں سے بالکل الگ نہیں پہچانے جا سکتے، اور امپیریل گزیٹیئر (1908ء) کے مطابق رزلی (Risley) نے پیمائشوں کی بنیاد پر انہیں بلوچوں اور افغانوں کے ساتھ "ترک ایرانی" گروہ میں رکھا۔
مگر یہاں احتیاط لازم ہے: جسمانی یا جینیاتی مشابہت زبان کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتی۔ پڑوسی آبادیوں سے مشابہت صدیوں کے ساتھ رہنے اور رشتہ داری کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے، اور یہ دونوں توضیحات کے ساتھ نبھ سکتی ہے۔ برے نے 1934ء ہی میں لکھا تھا کہ زبان بڑی آسانی سے نسل سے الگ ہو کر ایک قوم سے دوسری قوم میں منتقل ہو جاتی ہے۔
قبائلی روایت اور اپنی شناخت
ان علمی مباحث کے متوازی براہوی قبائل کی اپنی روایات بھی ہیں، جنہیں برطانوی دور کے بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر میں، مثلاً جھالاوان کی جلد (1907ء) میں، درج کیا گیا۔ یہ قبائلی شجروں اور دربارِ قلات کی یادوں پر مبنی ہیں، اور انہیں روایت ہی کے طور پر پڑھنا چاہیے، نہ کہ لسانی ثبوت کے طور پر۔ جھالاوان کے گزیٹیئر میں درج ہے کہ سراوان اور جھالاوان کی موجودہ تقسیم غالباً اٹھارہویں صدی کے آغاز میں میر عبداللہ خان کے عہد میں قائم ہوئی۔ اسی گزیٹیئر کے مطابق "جھالاوان" بلوچی لفظ "جہل" یعنی نیچے یا جنوب سے نکلا ہے اور "سراوان" کا مطلب اوپر یا شمال ہے۔ ایرانیکا کے مطابق خانیتِ قلات کی طاقت شروع سے سرکردہ براہوی قبائل کے اتحادوں اور سرپرستی کے نظام پر قائم تھی۔ خانیت کی تفصیل انیسویں باب میں آئے گی۔
لکھنے پڑھنے کی روایت
براہوی کی تحریری روایت عربی رسم الخط، خاص طور پر اردو طرزِ تحریر، پر مبنی ہے۔ ایرانیکا کے مطابق ایک مشہور ابتدائی براہوی تصنیف "تحفۃ العجائب" ہے، جسے میر نصیر خان اول کے دربار سے وابستہ قندھاری ملا ملک داد غرشین نے فارسی سے براہوی میں ترجمہ کیا؛ اصل مخطوطہ اب گم بتایا جاتا ہے۔ ایرانیکا کے مطابق 1966ء میں کوئٹہ میں براہوی اکیڈمی قائم ہوئی اور 1984ء تک اس کے نام تقریباً پندرہ کتابیں اور دوبارہ اشاعتیں تھیں۔
براہوی کا معمہ ابھی حل نہیں ہوا۔ جس زبان کی گنتی کے پہلے تین الفاظ جنوبی ہند کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور باقی گنتی پڑوس کی بلوچی سے آئی ہے، وہ اپنے اندر خطے کی تاریخ کا ایک پورا باب رکھتی ہے۔ دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم کہیں: دو بڑی توضیحات موجود ہیں اور کوئی ایک ابھی فیصلہ کن نہیں۔
اگلے اتوار: میر چاکر رند اور رند–لاشاری جنگیں۔
ماخذ
- Josef Elfenbein, "BRAHUI", Encyclopaedia Iranica, vol. IV, fasc. 4, pp. 433–443 (published 15 December 1989; online edition last updated 27 July 2018). https://www.iranicaonline.org/articles/brahui/ (sections "Habitat", "Numbers", "Tribal life", "History", "Language", "Dialects", "Numerals", "Indo-Iranian influences on Brahui").
- Denys de S. Bray, The Brahui Language, Part I: Introduction and Grammar, Superintendent Government Printing, India, Calcutta, 1909 (reprinted Quetta, 1972). Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.13132 (title page: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.13132/page/n2) · another copy: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.232478
- Denys Bray, The Life-History of a Brahui, Royal Asiatic Society, Prize Publication Fund vol. IV, London, 1913 (told by Mirza Sher Muhammad, Zahri; preface, p. v). Scan: https://archive.org/details/cu31924007927027 (title page: https://archive.org/details/cu31924007927027/page/n8; preface: /page/n10).
- Denys de S. Bray, The Brahui Language, Part II: The Brahui Problem; Part III: Etymological Vocabulary, Delhi, 1934; second impression, Brahui Academy, Quetta, Publication No. 11, 1978. Scan of the 1978 reprint: https://archive.org/details/TheBrahuiLanguagePart2 (title and imprint: /page/n2, /page/n3; census figures: p. 1, /page/n30; "an island of Dravidian … severed from its kin by many hundred miles", the Indus question and the undeciphered seals, language and race: pp. 41–42, /page/n70 and /page/n71).
- Ernst Trumpp, "Grammatische Untersuchungen über die Sprache der Brāhūīs", Sitzungsberichte der Königlich Bayerischen Akademie der Wissenschaften, Munich, 1880 (print; cited through source 1).
- Robert Caldwell, A Comparative Grammar of the Dravidian or South-Indian Family of Languages, Harrison, London, 1856. Scan: https://archive.org/details/dli.ministry.01421 (Brahui "derived from the same source as the Panjabi and Sindhi" but with "a Dravidian element": p. 23, https://archive.org/details/dli.ministry.01421/page/n31; Dravidian languages independent of Sanskrit: p. 31, /page/n39).
- Josef Elfenbein, "A Periplus of the 'Brahui Problem'", Studia Iranica 16/2 (1987), pp. 215–233, DOI 10.2143/SI.16.2.2014604 (not opened; cited through source 1, whose bibliography wrongly lists it under Acta Iranica 16).
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-B: Jhalawan, Text and Appendices, Bombay Education Society's Press, Bombay, 1907 (names Sarawan and Jhalawan, and the tribal division under Mir Abdulla: p. 1; tribal traditions: chap. I, "Population", pp. 72 ff.). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//136.pdf
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908 (articles compiled by R. Hughes-Buller): Risley's classification, p. 27; "Brahuis, The", pp. 89–91. Scan: https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan (p. 27: /page/n41; pp. 89–90: /page/n103, /page/n104).







