غالب: کوئی دن گر زندگانی اور ہے
چھ شعروں کی اس غزل کی ردیف "اور ہے" ہر شعر میں ایک "دوسری" یا "باقی" چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے: دل کا اور ارادہ، خط کے علاوہ زبانی پیغام، اور سب بلاؤں کے بعد ایک ناگہانی موت [1]۔…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
چھ شعروں کی اس غزل کی ردیف "اور ہے" ہر شعر میں ایک "دوسری" یا "باقی" چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے: دل کا اور ارادہ، خط کے علاوہ زبانی پیغام، اور سب بلاؤں کے بعد ایک ناگہانی موت1۔ "دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر، کچھ تو پیغام زبانی اور ہے" اس کا مشہور شعر ہے۔
غزل
کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوز غم ہائے نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغام زبانی اور ہے
قاطع اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلائے آسمانی اور ہے
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگ ناگہانی اور ہے
مشکل الفاظ
- ٹھانی: پکا ارادہ کیا
- آتش دوزخ: جہنم کی آگ
- سوز: جلن
- غم ہائے نہانی: چھپے ہوئے غم
- رنجشیں: ناراضیاں
- سرگرانی: ناراضی، بے رخی
- نامہ بر: خط لے جانے والا، قاصد
- پیغام زبانی: منہ زبانی پیغام
- قاطع اعمار: عمریں کاٹنے والے
- نجوم: ستارے
- بلائے آسمانی: آسمان سے آنے والی آفت
- مرگ ناگہانی: اچانک موت
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "کوئی دن گر زندگانی اور ہے"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (6 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/koii-din-gar-zindagaanii-aur-hai-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib







