ابن الہیثم کی بصریات: روشنی، آنکھ اور تجربہ
آج ہر جیب میں ایک کیمرا ہے۔ اس کے اندر ایک چھوٹا سا سوراخ اور عدسہ روشنی کو اندر لے جا کر تصویر بناتا ہے۔ مگر یہ سوال کہ ہم دیکھتے کیسے ہیں، ہزاروں سال تک الجھا رہا۔ گیارہویں صدی…

آج ہر جیب میں ایک کیمرا ہے۔ اس کے اندر ایک چھوٹا سا سوراخ اور عدسہ روشنی کو اندر لے جا کر تصویر بناتا ہے۔ مگر یہ سوال کہ ہم دیکھتے کیسے ہیں، ہزاروں سال تک الجھا رہا۔ گیارہویں صدی میں قاہرہ میں رہنے والے ایک عالم، ابن الہیثم (Ibn al-Haytham)، نے اس سوال کا جواب دلیل اور تجربے کے ساتھ دیا۔ یورپ میں انہیں الہازن (Alhazen) کے نام سے جانا گیا، اور ان کی "کتاب المناظر" صدیوں تک بصریات کی بنیادی کتاب رہی۔
بصرہ سے قاہرہ تک
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مک ٹیوٹر آرکائیو کے مطابق ابن الہیثم 965 عیسوی میں غالباً بصرہ (آج کا عراق) میں پیدا ہوئے اور تقریباً 1040 میں غالباً قاہرہ میں فوت ہوئے۔ بصرہ میں ہی ان کی علمی شہرت ہو چکی تھی۔ مک ٹیوٹر کے مطابق وہ دریائے نیل کے پانی کو قابو میں لانے کے ایک انجینئرنگ منصوبے کے سلسلے میں مصر گئے۔ جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ منصوبہ قابلِ عمل نہیں۔ اس کے بعد ان کی زندگی کا بڑا حصہ مصر میں علمی کام میں گزرا۔
مک ٹیوٹر کے مطابق انہوں نے تقریباً 92 کتابیں اور رسالے لکھے، جن میں سے 55 سے زیادہ آج بھی موجود ہیں۔ ان کی سب سے اہم تصنیف "کتاب المناظر" یعنی بصریات کی کتاب مانی جاتی ہے۔
کتاب المناظر
یہ کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے۔ مک ٹیوٹر کے مطابق پہلے حصے میں دیکھنے کا عمل اور آنکھ کی بناوٹ ہے، دوسرے میں بصری ادراک، اور تیسرے میں اچھی بینائی کی شرائط اور نظر کے دھوکوں کی وجوہات۔ چوتھا حصہ روشنی کے انعکاس یعنی آئینے سے پلٹنے پر ہے، پانچویں میں ایک مشہور ریاضیاتی سوال ہے جو آج بھی "الہازن کا مسئلہ" کہلاتا ہے، چھٹے میں آئینوں سے پیدا ہونے والی نظر کی غلطیاں، اور ساتویں میں انعطاف، یعنی روشنی کا پانی یا شیشے میں داخل ہو کر مڑ جانا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق ابن الہیثم نے روشنی کو ایک ایسی حرکت سمجھا جس کی رفتار گھنے مادے میں کم ہو جاتی ہے۔
اس کتاب کی تاریخِ تصنیف پر اختلاف ہے: یونیسکو نے 2015 کو اس کے تقریباً ایک ہزار سال پورے ہونے کا سال مانا، جبکہ پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ محقق تھامس لائسٹن کے مطابق یہ کتاب 1030 کی دہائی میں لکھی گئی۔
ہم دیکھتے کیسے ہیں
قدیم زمانے میں ایک مقبول خیال یہ تھا کہ آنکھ سے کوئی شعاع نکل کر چیزوں تک جاتی ہے اور یوں ہم انہیں دیکھتے ہیں۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ چیزوں سے کوئی اثر آنکھ تک پہنچتا ہے۔ مک ٹیوٹر کے مطابق ابن الہیثم نے دیکھنے کے عمل کی پہلی درست وضاحت پیش کی: روشنی کسی چیز سے ٹکرا کر آنکھ میں داخل ہوتی ہے، اور اسی سے ہم اس چیز کو دیکھتے ہیں۔
لائسٹن کے مطابق ابن الہیثم نے آنکھ سے شعاع نکلنے والے نظریے کو روزمرہ مشاہدات اور منظم تجربات سے پرکھا۔ مثلاً تیز روشنی میں دیکھنے سے آنکھ میں درد ہوتا ہے، روشنی سے نظر ہٹانے کے بعد بھی کچھ دیر اس کا عکس آنکھ میں رہتا ہے، اور اندھیرے میں کوئی کچھ نہیں دیکھ پاتا۔ اگر آنکھ خود شعاع بھیجتی تو اندھیرے میں بھی دیکھنا ممکن ہوتا۔
مک ٹیوٹر یہ بھی بتاتا ہے کہ عدسے کا تصور نہ ہونے کی وجہ سے آنکھ کی اندرونی بناوٹ کے بارے میں ان کی بعض وضاحتیں درست نہیں تھیں۔ سائنس اسی طرح قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہے۔
تجربہ: علم کی کسوٹی
ابن الہیثم کا سب سے بڑا حصہ شاید ان کا طریقۂ کار ہے۔ مک ٹیوٹر کے مطابق انہوں نے لکھا کہ روشنی کی تحقیق مجرد نظریے کے بجائے تجرباتی ثبوت پر کی جائے گی۔ لائسٹن کے مطابق کتاب کے چوتھے اور پانچویں حصے دراصل تجربات کا مجموعہ ہیں جن سے وہ اپنے دعوے ثابت کرتے ہیں۔ مک ٹیوٹر کے مطابق چوتھے حصے میں انہوں نے انعکاس کے اصول کا تجرباتی ثبوت دیا اور انعکاس ناپنے کے لیے تانبے کا ایک آلہ بیان کیا۔
نیچر گروپ کے جریدے "نیچر مڈل ایسٹ" میں محمد یحییٰ لکھتے ہیں کہ ابن الہیثم نے اپنی کتاب اس طرح لکھی کہ پڑھنے والا ان کے تجربات خود دہرا سکے۔ اسی مضمون میں ان کا یہ مشورہ نقل ہے کہ تنقیدی قاری کو اپنی پڑھی ہوئی ہر بات کا مخالف بن کر اسے پرکھنا چاہیے۔ آج کی زبان میں یہی سائنسی طریقہ ہے: دعویٰ، تجربہ، اور پھر دوسروں کے لیے دہرانے کا موقع۔
تاریک کمرا اور کیمرا
اگر کسی بند اندھیرے کمرے کی دیوار میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہو تو باہر کا منظر سامنے والی دیوار پر الٹا نظر آتا ہے۔ اس انتظام کو لاطینی میں "کیمرا آبسکیورا" (camera obscura)، یعنی تاریک کمرا، کہتے ہیں۔ مک ٹیوٹر کے مطابق ابن الہیثم وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی تحریر میں اس کا ذکر کیا۔ آج کا کیمرا بھی اسی سادہ اصول پر کام کرتا ہے کہ روشنی ایک تنگ راستے سے گزر کر تصویر بناتی ہے۔
لاطینی ترجمہ اور اثر
لائسٹن کے مطابق بارہویں صدی کے وسط میں یہ کتاب لاطینی میں "دے اسپیکتیبس" (De aspectibus) کے نام سے ترجمہ ہوئی، غالباً اسپین یا اٹلی میں۔ تیرہویں صدی کے یورپی عالم وٹیلو (Witelo) نے اپنی کتاب "پرسپیکٹیوا" اسی پر قائم کی، اور انگلستان کے راجر بیکن اور بعد میں جرمن ماہرِ فلکیات یوہانس کیپلر تک اس کا اثر پہنچا۔ جرمنی کی وُرزبرگ یونیورسٹی کے عربی لاطینی ذخیرے کے مطابق فریڈرک رِزنر نے 1572 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل سے اس کا لاطینی متن شائع کیا۔
اقوامِ متحدہ نے 2015 کو روشنی کا بین الاقوامی سال قرار دیا، اور نیچر مڈل ایسٹ کے مطابق اس موقع پر "کتاب المناظر" کے ایک ہزار سال بھی منائے گئے۔ آج کوئٹہ کا کوئی طالب علم جب موبائل کیمرے سے تصویر کھینچتا ہے یا عینک لگا کر کتاب پڑھتا ہے، تو وہ اسی سوال کے جواب سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے جو ابن الہیثم نے ایک ہزار سال پہلے تجربے سے ڈھونڈا تھا۔
ماخذ
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Abu Ali al-Hasan ibn al-Haytham", MacTutor History of Mathematics Archive, University of St Andrews. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Al-Haytham/ — born 965 possibly Basra, died c. 1040 possibly Cairo; Nile regulation project and its abandonment; about 92 works, over 55 surviving; seven books of the Optics and their contents; first correct explanation of vision (light reflected from objects into the eye); investigation based on experimental evidence; experimental proof of reflection and copper instrument in Book IV; errors on the eye's structure for lack of the lens concept; light slower in denser media; first to mention the camera obscura.
- Thomas Leisten, "Ibn al-Haytham on optics and the human eye", Aspetar Sports Medicine Journal 5(1) (2016). https://journal.aspetar.com/en/journals/volume-5-issue-1/ibn-al-haytham-on-optics-and-the-human-eye-293 — Kitab al-Manazir written in the 1030s in seven books; tests of the extramission theory (pain from bright light, afterimages, no sight in darkness); Books IV and V as a collection of experiments; Latin De aspectibus in the mid-12th century; influence on Witelo, Roger Bacon and Kepler; Risner's Basel edition 1572.
- Mohammed Yahia, "Year of Light: The other legacy of Ibn Al-Haytham", Nature Middle East (22 Dec 2015). https://www.natureasia.com/en/nmiddleeast/article/10.1038/nmiddleeast.2015.248 — UN's International Year of Light 2015 marking 1,000 years of the Book of Optics; wrote so readers could repeat his experiments; the critical reader should make himself an enemy of all he reads.
- "Alhazen, Optics – Latin (De aspectibus)", Arabic and Latin Glossary / Corpus, University of Wurzburg. https://www.arabic-latin-corpus.philosophie.uni-wuerzburg.de/text/Alhaz_Opt_la.index.xhtml — Arabic title Kitab al-Manazir, Latin De aspectibus by an anonymous translator; Risner's edition Opticae thesaurus, Basel 1572.







