دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
میر تقی میرؔ کی غزل۔

میر تقی میرؔ کی غزل۔
غزل
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جاکوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میراشور اک آسماں سے اٹھتا ہے
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاںایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آوازدود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کوجو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہمجیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہےکب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
مشکل الفاظ
- دود: دھواں
- گور: قبر
- دل جلے: جس کا دل غم سے جلا ہو، دکھی
- زینہار: ہرگز، خبردار
- نالہ: فریاد، درد بھری آواز
- سر کھینچتا ہے: بلند ہوتا ہے، اٹھتا ہے
- چشمِ شوخ: شریر، بے باک آنکھ
- آشوب: ہنگامہ، فتنہ
- شعلۂ آواز: درد بھری آواز (لفظاً: آواز کا شعلہ)
- آشیاں: گھونسلا، ٹھکانا
- آستاں: چوکھٹ، دہلیز
- ناتواں: کمزور
پس منظر
میر تقی میرؔ (وفات: 20 ستمبر 1810ء، لکھنؤ) اردو غزل کے سب سے بڑے ناموں میں ہیں؛ آگرہ میں پیدا ہوئے اور جوانی دلی میں گزری2۔ یہ غزل چھوٹی بحر میں ہے اور ہر شعر "اٹھتا ہے" پر ختم ہوتا ہے: دل سے اٹھتا دھواں، قبر سے اٹھتا شعلہ، آسمان سے اٹھتا شور، اور آخر میں عشق کا وہ پتھر جو کمزور سے نہیں اٹھتا۔ ریختہ پر اس غزل کی ایک ویڈیو مہدی حسن کی آواز میں اور ایک آڈیو نعمان شوق کی پڑھی ہوئی موجود ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، میر تقی میرؔ: "دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/dekh-to-dil-ki-jaan-se-uthtaa-hai-meer-taqi-meer-ghazals?lang=ur
- ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
- کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur







