منی پور: کامجونگ میں مسلح حملے میں ایک شخص ہلاک، چار دیہاتی زخمی

امپھال: بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں ایک مسلح حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میانمار کی سرحد کے قریب ضلع کامجونگ کے کوکی اکثریتی گاؤں چاساد میں مسلح افراد نے پانچ دیہاتیوں پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ 17 اکتوبر کو پیش آیا۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
زخمی ہونے والے افراد
زخمیوں میں چاساد گاؤں کے سربراہ تھانگ جاہو ہاوکیپ اور پھونگتھا گاؤں کے سربراہ سیپاؤ ہاوکیپ شامل ہیں۔ چاساد گاؤں کی انتظامیہ کے سیکریٹری تھانگِن تھوتھانگ اور انتظامیہ کے رکن ایس خیلون ہاوکیپ بھی زخمی ہوئے ہیں۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ سیپاؤ ہاوکیپ اس سے قبل ہونے والے تشدد کے باعث بے گھر ہو گئے تھے۔ وہ ضلع کے کسی دوسرے علاقے میں واقع اپنے آبائی گاؤں سے نقل مکانی کر کے آئے تھے۔
کوکی دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ جب پانچوں افراد بجلی کی تاروں کی مرمت کر رہے تھے تو ناگا عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا۔
کمیٹی آن ٹرائبل یونٹی کی مذمت
کانگ پوکپی میں قائم کمیٹی آن ٹرائبل یونٹی (CoTU) نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو تانگکھول کی قیادت میں سرگرم عسکریت پسند قرار دیا۔
تانگکھول ناگا برادری کی ایک شاخ ہے، جبکہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالِم، اساک موئیوا گروپ (NSCN-IM) کو اس برادری میں مضبوط حمایت حاصل ہے۔
یہ واقعہ منی پور کے سرحدی علاقوں میں مسلسل سکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس سے مختلف برادریوں کے درمیان کشیدگی کے دوران عام شہریوں کو لاحق خطرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔











