ملک داد شاہوانی: قلات کا نعت گو
بلوچستان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ عقیدت کی شاعری ہے: حمد، نعت اور منقبت۔ براہوئی میں یہ روایت بہت پرانی ہے، اور انیسویں صدی کے قلات میں اس کا ایک نمایاں نام ملک داد شاہوانی کا ہے۔ ان کی…

بلوچستان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ عقیدت کی شاعری ہے: حمد، نعت اور منقبت۔ براہوئی میں یہ روایت بہت پرانی ہے، اور انیسویں صدی کے قلات میں اس کا ایک نمایاں نام ملک داد شاہوانی کا ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، مگر ان کی نعتیں ایک خاندانی کتب خانے میں محفوظ رہیں اور براہوئی ادب کی تاریخ نے انہیں یاد رکھا۔
زندگی اور زمانہ
ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کی کتاب "براہوئی زبان و ادب کی مختصر تاریخ" کے مطابق ملک داد شاہوانی کی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں، اور ان کا انتقال 1899ء میں ہوا۔ وہ قلات میں میر سفر خان کے ہاں پیدا ہوئے، ان کے ایک بھائی کا نام خالقداد تھا، اور ان کا تعلق شاہوانی قبیلے کی شیخزئی شاخ سے تھا۔
اسی کتاب کے مطابق اس زمانے کے دستور کے مطابق ملک داد اور ان کے بھائی نے اسلامی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد خانِ قلات کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ اس وقت قلات میں خان خدائیداد خان کی حکومت تھی۔
ملک داد کے تین بیٹے تھے: سفر خان، حمید اللہ اور واحد بخش۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی لکھتے ہیں کہ ملا سفر خان نے خان خدائیداد خان اور پھر میر محمود خان کے دربار میں منشی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یوں یہ خاندان کم از کم دو نسلوں تک قلات کے دربار سے جڑا رہا۔
ملک داد کی نعتیہ شاعری کا ذخیرہ، اسی کتاب کے مطابق، مستونگ میں سید علی محمد شاہ ہاشمی کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی نے ملک داد کے بارے میں اپنی معلومات سید علی محمد شاہ ہاشمی ہی کی کتاب "نعت ءِ ناسفر" سے لی ہیں۔
اسلوب
ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کے مطابق ملک داد کی مختلف نعتوں سے رسولِ کریم ﷺ سے ان کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ جو چند شعر ان کی کتاب میں درج ہیں، ان سے ملک داد کے اسلوب کی تین باتیں سامنے آتی ہیں۔
پہلی بات سادگی ہے۔ مصرعے چھوٹے ہیں اور الفاظ وہی ہیں جو ایک عام براہوئی بولنے والا روزانہ سنتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کی نعت حمد سے شروع ہوتی ہے: پہلے خدا کی ثنا، پھر رسول ﷺ پر درود، جیسا کہ اردو اور فارسی کی کلاسیکی نعت میں بھی ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ ملک داد قرآن کا حوالہ دیتے ہیں: رسول ﷺ کی شان کا سب سے بڑا گواہ وہ خود قرآن کو بناتے ہیں۔
اپنے ہم وطن ملا ملک داد قلاتی کی طرح، جن کا ذکر پچھلے جمعے ہوا، ملک داد شاہوانی کی شاعری بھی دین کی خدمت کی شاعری ہے۔ فرق یہ ہے کہ قلاتی نے فقہ کے مسائل نظم کیے، اور شاہوانی نے محبت اور عقیدت کو۔
منتخب کلام
نیچے کے اشعار ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کی کتاب سے ہیں۔ اردو ترجمہ ادارے کا ہے۔
ثنائے پاوہ ہر دم ای خدانادرودے پاوہ بے حد مصطفیٰ نا
محمد آخرے کل انبیا تامحمد رہبرے کل اولیا تا
ارٹپہ شان نا بڑزی ءِ اوناقرآن ہم کیک ستائے مصطفیٰ نا
نے آن خواتک درود و سلام رب ناخلوت ءِ تینا رب نے کرینے عطا
اشعار کی تشریح
«ثنائے پاوہ ہر دم ای خدانا…» میں ہر دم خدا کی ثنا کرتا ہوں، اور مصطفیٰ ﷺ پر بے حد درود بھیجتا ہوں۔ نعت کا آغاز حمد اور درود سے ہوتا ہے۔
«محمد آخرے کل انبیا تا…» محمد ﷺ تمام نبیوں میں آخری ہیں، اور محمد ﷺ تمام اولیا کے رہبر ہیں۔ دونوں مصرعوں کا ایک ہی آغاز، "محمد"، شعر کو یاد رکھنے میں آسان بنا دیتا ہے۔
«ارٹپہ شان نا بڑزی ءِ اونا…» ان کی شان کی بلندی کا کیا پوچھنا؛ خود قرآن مصطفیٰ ﷺ کی ستائش کرتا ہے۔
«نے آن خواتک درود و سلام رب نا…» تم پر رب کی طرف سے درود و سلام آتا ہے، اور رب نے تمہیں اپنی خلوت عطا کی۔ یہاں اشارہ معراج کی طرف ہے، جب رسول ﷺ کو قربِ الٰہی نصیب ہوا۔
اثر اور یادگار
ملک داد شاہوانی کا نام بڑے شاعروں کی فہرستوں میں کم آتا ہے، مگر براہوئی ادب کی تاریخ میں انہیں جگہ ملنا اس بات کی گواہی ہے کہ قلات کے دربار کے آس پاس براہوئی شاعری کی ایک مسلسل روایت تھی۔ ان کی نعتوں کا ایک خاندانی کتب خانے میں ایک صدی سے زیادہ محفوظ رہنا یہ بھی بتاتا ہے کہ بلوچستان میں ادب کا بڑا حصہ اب بھی ذاتی بیاضوں اور گھریلو کتب خانوں میں ہے۔ ایسے ذخیروں کی تلاش اور اشاعت اس سیریز کے مقاصد میں سے ہے۔
قارئین سے: کیا آپ کے خاندان میں کوئی پرانی بیاض یا قلمی نسخہ ہے جس میں براہوئی یا بلوچی کی نعتیں یا نظمیں لکھی ہوں؟ ہمیں بتائیے۔ قارئین کے بھیجے ہوئے اشعار، جانچ کے بعد، بھیجنے والے کے نام کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: ڈیرہ بگٹی کے جوان سال بگٹی، چرواہے اور صوفی شاعر۔
ماخذ
- ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی، براہوئی زبان و ادب کی مختصر تاریخ، براہوئی اکیڈمی پاکستان (اشاعت کا سال اسکین شدہ صفحات پر درج نہیں)، صفحات 93–94۔ https://archive.org/details/brahui-zuban-adab-ki-mukhtasir-tareekh-final
- سید علی محمد شاہ ہاشمی، نعت ءِ ناسفر، مستونگ، صفحات 417–424 (ماخذ 1 میں حوالہ؛ اس سیشن میں نہیں کھولی گئی)۔







