رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹپاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کا ٹائٹل دفاع کرنے کے لیے پرعزم: شاہد انورگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان

ابن بطوطہ: طنجہ کا مسافر سیہون، ملتان اور دہلی میں

جون 1325ء میں مراکش کے شہر طنجہ سے ایک بائیس سالہ نوجوان اکیلا حج کے لیے نکلا۔ اسے خبر نہ تھی کہ وہ برسوں بعد گھر لوٹے گا اور اس دوران افریقہ، عرب، ایران، وسط ایشیا، ہندوستان اور چین تک…

ابن بطوطہ: طنجہ کا مسافر سیہون، ملتان اور دہلی میں
علامتی تصویر

جون 1325ء میں مراکش کے شہر طنجہ سے ایک بائیس سالہ نوجوان اکیلا حج کے لیے نکلا۔ اسے خبر نہ تھی کہ وہ برسوں بعد گھر لوٹے گا اور اس دوران افریقہ، عرب، ایران، وسط ایشیا، ہندوستان اور چین تک دیکھ آئے گا۔ یہ ابن بطوطہ (Ibn Battuta) تھا، اور اس کے سفرنامے کا ایک بڑا حصہ اسی سرزمین سے گزرتا ہے جسے آج ہم پاکستان کہتے ہیں: دریائے سندھ، سیہون، لاہری بندر، بکھر، اُچ، ملتان اور پاک پتن۔

طنجہ سے روانگی

انگریز مستشرق ایچ اے آر گب (H. A. R. Gibb) نے 1929ء میں سفرنامے کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ ان کے تعارف کے مطابق کتاب کے مرتب ابن جزی (Ibn Juzayy) نے لکھا ہے کہ ابن بطوطہ 24 فروری 1304ء کو طنجہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد بن عبداللہ تھا اور خاندان میں کئی قاضی گزرے تھے۔

ابن بطوطہ خود لکھتے ہیں کہ وہ جمعرات 2 رجب 725ھ (14 جون 1325ء) کو، قمری حساب سے بائیس برس کی عمر میں، طنجہ سے نکلے، کوئی ہم سفر یا قافلہ ساتھ نہ تھا، بس مکہ اور مدینہ کی زیارت کا دیرینہ شوق تھا۔ گب کے مطابق وہ اپنے زمانے کے واحد سیاح تھے جنہوں نے اپنے دور کے ہر مسلمان حکمران کے ملک کا سفر کیا، اور ہنری یول کے اندازے میں ان کا کل سفر کم از کم 75 ہزار میل بنتا ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار کلومیٹر بنتا ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے

حج، عراق، ایران، اناطولیہ، سنہری اردو کی منگول سلطنت اور وسط ایشیا کے طویل سفر کے بعد ابن بطوطہ خراسان اور افغانستان کے راستے ہندوستان کی طرف بڑھے۔ پھر پندرہ دن کا ایک ایسا صحرا آیا جسے، ان کے بقول، صرف بارشوں کے بعد پار کیا جا سکتا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ ان کا قافلہ یکم محرم 734ھ کی رات، یعنی 12 ستمبر 1333ء کو، "پنج آب" پہنچا، جسے وہ "سندھ کا دریا" کہتے ہیں اور جس کا مطلب "پانچ دریا" بتاتے ہیں۔ یہی دریا دہلی کے سلطان کی سلطنت کی سرحد تھا۔ یہاں سرکاری خبر رساں ہر نئے آنے والے کی پوری تفصیل بادشاہ کو لکھ بھیجتے تھے۔

ان کے بقول سندھ سے دہلی پچاس دن کا راستہ تھا، مگر پیدل ہرکاروں کی ڈاک، جن کی چوکیاں ہر تہائی میل پر تھیں اور جو گھنٹیوں والے ڈنڈے لے کر دوڑتے تھے، خط پانچ دن میں پہنچا دیتی تھی۔

سیہون کی گرمی اور لاہری کی بندرگاہ

دریا پار کرنے کے بعد راستہ سرکنڈوں کے جنگل سے گزرا، جہاں ابن بطوطہ نے زندگی میں پہلی بار گینڈا دیکھا۔ پھر سیوستان، یعنی سیہون (Sehwan) آیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ شہر کے باہر ریتلا صحرا تھا جس میں ببول کے سوا کوئی درخت نہ تھا۔ لوگ جوار اور مٹر کی روٹی کھاتے تھے، اور مچھلی اور بھینس کا دودھ وافر تھا۔ گرمی اتنی شدید تھی کہ کندھوں پر ڈالا گیا بھیگا کپڑا تھوڑی ہی دیر میں سوکھ جاتا۔

سیہون میں ان کی ملاقات ہرات کے سابق قاضی علاء الملک سے ہوئی جنہیں سلطان نے لاہری کا حاکم مقرر کیا تھا۔ ابن بطوطہ ان کے ساتھ پندرہ کشتیوں کے قافلے میں دریا کے بہاؤ پر روانہ ہوئے۔ حاکم کی بڑی کشتی کو تقریباً چالیس ملاح کھیتے تھے اور ساتھ کی کشتیوں پر نقارے اور نفیریاں بجتی تھیں۔

پانچ دن بعد وہ لاہری (Lahari) پہنچے، جو ان کے بقول وہاں واقع تھا جہاں دریائے سندھ سمندر میں گرتا ہے۔ یہاں ایک بڑی بندرگاہ تھی جہاں یمن، فارس اور دوسرے علاقوں سے لوگ آتے تھے۔ حاکم نے بتایا کہ اس شہر کی آمدنی سالانہ ساٹھ لاکھ ہے۔ گب کے حاشیے کے مطابق لاہری، جسے انگریز "لاری بندر" لکھتے تھے، کراچی سے تقریباً اٹھائیس میل جنوب مشرق میں تھا اور تقریباً 1800ء میں اس کی جگہ کراچی نے لے لی۔

بکھر، اُچ اور ملتان

لاہری سے وہ بکھر (Bakar) گئے، جسے گب سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ کا قلعہ بند جزیرہ بتاتے ہیں۔ وہاں سے وہ اُچ (Uch) پہنچے، جو دریا کے کنارے عمدہ بازاروں اور عمارتوں والا شہر تھا۔ یہاں کے حاکم شریف جلال الدین سے ان کی گہری دوستی ہوئی۔

پھر ملتان آیا، جسے ابن بطوطہ "سندھ کا دارالحکومت" لکھتے ہیں۔ شہر سے دس میل پہلے ایک دریا پر چنگی کی سخت جانچ ہوتی تھی؛ تاجروں سے سامان کا چوتھائی حصہ اور فی گھوڑا سات دینار وصول کیے جاتے تھے۔ یہاں فوج میں بھرتی کے لیے تیر انداز کو مختلف سختی کی کمانیں کھینچنی پڑتیں اور اس کی تنخواہ اس کی طاقت کے مطابق مقرر ہوتی۔

ملتان میں دو مہینے انتظار کے بعد قافلہ دہلی کی طرف روانہ ہوا، جو چالیس دن کی مسافت پر تھا۔ راستے میں وہ اجودھن، یعنی آج کے پاک پتن (Pakpattan) سے گزرے، جسے وہ "شیخ فرید الدین کا چھوٹا سا قصبہ" لکھتے ہیں، اور شیخ سے ملاقات کی۔

دہلی کے قاضی

دہلی میں سلطان محمد بن تغلق (Muhammad ibn Tughluq) کی حکومت تھی۔ ابن بطوطہ لکھتے ہیں کہ سلطان پردیسیوں کی بڑی قدر کرتا اور انہیں اونچے عہدے دیتا تھا۔ اس نے ابن بطوطہ کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار دینار مقرر کیا اور جب پوچھا گیا کہ کون کس عہدے کے قابل ہے تو ابن بطوطہ نے کہا کہ وزارت ان کا کام نہیں، البتہ قضا ان کا اور ان کے باپ دادا کا پیشہ ہے۔ چنانچہ انہیں دہلی میں مالکی مسلک کا قاضی مقرر کر دیا گیا۔ گب کے مطابق وہ تقریباً سات برس اس منصب پر رہے۔

ابن بطوطہ نے دہلی کی جامع مسجد کے مینار کا ذکر بھی کیا، جو آج قطب مینار کے نام سے مشہور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں اس جیسا کوئی مینار نہیں، یہ سرخ پتھر کا بنا ہے اور اس کا راستہ اتنا چوڑا ہے کہ ہاتھی اوپر جا سکے۔ گب کے حاشیے کے مطابق قطب مینار کی اونچائی 238 فٹ ہے اور اس کی چوڑائی کے بارے میں ابن بطوطہ نے مبالغہ کیا ہے۔ آخر 1342ء میں سلطان نے انہیں چین کے منگول شہنشاہ کے پاس سفیر بنا کر بھیجا؛ ان کے بقول قافلہ 17 صفر 743ھ (22 جولائی 1342ء) کو دہلی سے روانہ ہوا۔

سفرنامہ کیسے لکھا گیا

گب کے مطابق ابن بطوطہ نے کبھی سفرنامہ لکھنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ فاس (Fez) واپس آ کر انہوں نے دربار میں اپنے قصے سنائے تو کئی لوگوں نے یقین نہ کیا، جیسا کہ مؤرخ ابن خلدون نے بھی لکھا ہے۔ آخر مراکش کے سلطان کے حکم پر ان کے منشی ابن جزی نے ابن بطوطہ کی زبانی یہ کتاب مرتب کی۔ کتاب کے آخر میں لکھا ہے کہ اس کا املا 3 ذوالحجہ 756ھ (9 دسمبر 1355ء) کو مکمل ہوا۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس کا عربی نام "تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار" ہے، جو "رحلہ" یعنی سفرنامے کے نام سے مشہور ہوا۔ گب لکھتے ہیں کہ ابن بطوطہ بعد میں مراکش کے ایک شہر میں قاضی رہے اور 1368ء یا 1369ء میں وفات پائی۔

بلوچستان کے قارئین کے لیے ایک دلچسپ بات: سر ہنری یول نے مارکو پولو کی کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ ابن بطوطہ نے بھی مکران کے لیے "کیچ مکران" کا نام استعمال کیا۔

اگلی قسط: ژینگ ہی: چینی امیر البحر کے سات بحری سفر۔

ماخذ

  1. Ibn Battúta, Travels in Asia and Africa 1325–1354, translated and selected by H. A. R. Gibb, The Broadway Travellers, George Routledge & Sons, London, 1929 (Introduction; Book I ch. I; Book II ch. VI on Sind, Multan and Delhi; notes to ch. VI; closing passage). https://archive.org/details/dli.ernet.16353
  2. Joshua J. Mark, "Ibn Battuta", World History Encyclopedia, 7 February 2019. https://www.worldhistory.org/Ibn_Battuta/
  3. Marco Polo, The Book of Ser Marco Polo, tr. Henry Yule, rev. Henri Cordier, John Murray, London, 1903, vol. 2, Book III ch. xxx, note 1 (Ibn Battuta's use of "Kij Makran"). https://www.gutenberg.org/ebooks/12410
  4. "Ibn Battuta", Wikipedia (pointer only, for the Arabic title of the Rihla). https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Battuta
  5. Wikimedia Commons, "File:Battuta-path-1332-1346.png" (route map, CC BY-SA 3.0). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Battuta-path-1332-1346.png

مہمات: تمام تحریریں ←