رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹورلڈ کپ 2027: پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کے لیے 84 لاکھ درخواستیں موصولگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہچار ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 14 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا

مون سون کا راز اور “پیری پلس”: جب روم کے جہاز سندھ کے دہانے پر لنگر ڈالتے تھے

ہر سال جون جولائی میں جب مون سون کی ہوائیں بحیرۂ عرب سے اٹھ کر سندھ اور مکران کے ساحل سے ٹکراتی ہیں تو ہم بارش کا انتظار کرتے ہیں۔ دو ہزار سال پہلے یہی ہوائیں مصر کے بحری تاجروں…

مون سون کا راز اور “پیری پلس”: جب روم کے جہاز سندھ کے دہانے پر لنگر ڈالتے تھے
علامتی تصویر

ہر سال جون جولائی میں جب مون سون کی ہوائیں بحیرۂ عرب سے اٹھ کر سندھ اور مکران کے ساحل سے ٹکراتی ہیں تو ہم بارش کا انتظار کرتے ہیں۔ دو ہزار سال پہلے یہی ہوائیں مصر کے بحری تاجروں کے لیے سونے سے زیادہ قیمتی تھیں، کیونکہ انہی کے سہارے وہ کھلے سمندر کو پار کر کے ہندوستان پہنچتے تھے۔ اس تجارت کا سب سے دلچسپ ریکارڈ ایک چھوٹی سی یونانی کتاب ہے جس کا نام "پیری پلس آف دی ایریتھرین سی" (Periplus of the Erythraean Sea) ہے، یعنی "بحرِ اریتھرائی کا ساحلی رہنما"۔ اس کتاب میں دریائے سندھ کے دہانے پر واقع ایک بندرگاہ باربریکون (Barbarikon) کا بھی ذکر ہے، جہاں رومی دور کے جہاز لنگر ڈالتے تھے۔

پس منظر: ایک گمنام تاجر کی کتاب

"پیری پلس" یونانی میں ایسی کتاب کو کہتے تھے جس میں ساحل کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں، فاصلوں اور سمندری حالات کی تفصیل ہو۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا میں جیمز ہینکوک (James Hancock) لکھتے ہیں کہ یہ کتاب پہلی صدی عیسوی میں مصر کے ایک یونانی بولنے والے گمنام مصنف نے لکھی، جو خود اس راستے پر سفر کر چکا تھا۔ یہ دراصل دسویں صدی عیسوی کے ایک ہی قلمی نسخے کی صورت میں محفوظ رہی، جو آج جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں ہے۔ ہینکوک کے مطابق مصنف غالباً بحیرۂ احمر کی بندرگاہ برینیکے (Berenice) میں رہتا تھا اور کوئی بڑا عالم نہیں تھا؛ اس کی کتاب کی قدر اس کی ادبی خوبی میں نہیں بلکہ بحرِ ہند کی تجارت کے قابلِ اعتماد بیان میں ہے۔

اس کا مشہور انگریزی ترجمہ امریکی محقق ولفریڈ شاف (Wilfred H. Schoff) نے 1912ء میں شائع کیا۔ کتاب کی تاریخ پر اختلاف ہے: ہینکوک ایک جگہ 40 سے 55ء کا زمانہ بتاتے ہیں اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ شاف اور دوسرے محققین 60ء کے قریب کی تاریخ کو زیادہ ممکن سمجھتے ہیں۔ عمومی طور پر اسے پہلی صدی عیسوی کے وسط کی تحریر کہا جا سکتا ہے۔

روم اور مشرق کی یہ تجارت اس وقت تیز ہوئی جب ہینکوک کے مطابق شہنشاہ آگسٹس نے 30 ق م میں مصر کو رومی سلطنت میں شامل کر لیا۔ یونانی جغرافیہ دان اسٹرابو (Strabo) کے حوالے سے ہینکوک لکھتے ہیں کہ اس کے زمانے میں ایک سو بیس جہاز ہر سال مصر سے ہندوستان جاتے تھے، جبکہ پہلے بہت کم لوگ یہ سفر کرتے تھے۔

مون سون کا راز: ہپالس

"پیری پلس" کے ستاونویں حصے میں ایک ایسی بات درج ہے جسے سمندری تاریخ کا ایک موڑ کہا جاتا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ پہلے یہ سارا سفر چھوٹے جہازوں میں خلیجوں کے کناروں کے ساتھ ساتھ کیا جاتا تھا۔ پھر ہپالس (Hippalus) نام کے ایک ملاح نے بندرگاہوں کے محلِ وقوع اور سمندر کے حالات کا مشاہدہ کر کے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ سمندر کو سیدھا کیسے پار کیا جائے۔ مصنف کے مطابق جس موسم میں "ہمارے ہاں" یعنی بحیرۂ روم میں ایٹیشین ہوائیں چلتی ہیں، اسی موسم میں ہندوستان کے ساحل پر سمندر سے ہوا آتی ہے، اور اس جنوب مغربی ہوا کو دریافت کرنے والے کے نام پر "ہپالس" کہا جاتا ہے۔

شاف لکھتے ہیں کہ محقق وِنسنٹ نے ہپالس کی دریافت کو تقریباً 47ء کا واقعہ قرار دیا۔ رومی مصنف پلینی (Pliny the Elder) بھی، جس کی کتاب 77ء کے آس پاس مکمل ہوئی، اس ہوا کو "ہپالس" کے نام سے جانتا ہے۔ پلینی کے مطابق اگر یہ ہوا چل رہی ہو تو عرب کی بندرگاہ اوکیلس سے چالیس دن میں ہندوستان کی پہلی منڈی مُزیرس (Muziris) پہنچا جا سکتا تھا، اور واپسی کا سفر دسمبر یا جنوری میں شروع ہوتا تھا تاکہ تاجر ایک ہی سال میں آ جا سکیں۔ پلینی یہ شکایت بھی کرتا ہے کہ ہندوستان ہر سال رومی سلطنت سے بھاری رقم کھینچ لیتا ہے۔

باربریکون: سندھ کے دہانے کی منڈی

ہمارے خطے کے قاری کے لیے کتاب کا سب سے اہم حصہ اڑتیسواں اور انتالیسواں ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ سمندر کی طرف سے آنے والوں کو اس ملک کے قریب پہنچنے کی نشانی یہ ملتی ہے کہ گہرے پانی سے سانپ نکل کر سامنے آتے ہیں۔ یہاں "سکیتھیا" (Scythia) کا دلدلی ساحل ہے، جس سے دریائے "سنتھس" (Sinthus) یعنی سندھ گزرتا ہے: بحرِ اریتھرائی میں گرنے والا سب سے بڑا دریا، جو اتنا پانی لاتا ہے کہ سمندر میں دور تک پانی میٹھا رہتا ہے۔ اس کے سات دہانے ہیں، سب اتھلے اور دلدلی، سوائے بیچ والے کے، جس کے کنارے باربریکون کی منڈی ہے۔ اس کے سامنے ایک چھوٹا جزیرہ ہے، اور پیچھے اندرونِ ملک سکیتھیا کا دارالحکومت مینناگرا (Minnagara) ہے، جس پر پارتھی شہزادے حکمران ہیں جو ایک دوسرے کو مسلسل نکالتے رہتے ہیں۔

مصنف بتاتا ہے کہ جہاز باربریکون پر لنگر انداز ہوتے ہیں مگر سارا سامان دریا کے راستے دارالحکومت میں بادشاہ کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ یہاں باہر سے باریک کپڑا، نقش دار کتان، پکھراج، مرجان، خوشبو دار گوند، لوبان، شیشے کے برتن، چاندی اور سونے کے برتن اور تھوڑی سی شراب آتی تھی۔ یہاں سے جانے والے مال میں خوشبودار جڑ "کُٹ"، گوگل، نارد، فیروزہ، لاجورد، "سیریک" کھالیں (جنہیں میک کرنڈل چینی کھالیں یا سمور سمجھتے ہیں)، سوتی کپڑا، ریشمی دھاگا اور نیل شامل تھے۔ ملاح جولائی کے آس پاس "ہندوستانی ہواؤں" کے ساتھ یہاں کا رخ کرتے تھے؛ یہ سفر خطرناک تھا مگر ان ہواؤں سے سیدھا اور جلدی مکمل ہو جاتا تھا۔

باربریکون کی جگہ آج کسی کو معلوم نہیں۔ شاف لکھتے ہیں کہ سندھ کا ڈیلٹا صدیوں میں بہت بڑھ گیا ہے اور اس بندرگاہ کے آثار غالباً کئی گز مٹی کے نیچے دبے ہیں۔

مکران کا ساحل اور جنوبی ہندوستان

سندھ پہنچنے سے پہلے مصنف گیڈروسیا کی خلیج کا ذکر کرتا ہے، جس کے بیچ سے ایک راس سمندر میں نکلی ہوئی ہے، اور وہاں ایک دریا کے دہانے پر "اورائیا" نام کی چھوٹی منڈی ہے۔ اس کے پیچھے سات دن کی مسافت پر ایک شہر میں بادشاہ کا دربار ہے۔ یہ علاقہ گندم، شراب، چاول اور کھجور پیدا کرتا ہے، مگر ساحل پر گوگل کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ شاف اس راس کو راس اورماڑہ اور منڈی کو دریائے پورالی کے دہانے پر سونمیانی کی خلیج قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ ساحل ہے جس سے چار صدی پہلے نیارخوس کا بیڑا گزرا تھا۔

ہینکوک کے مطابق رومی تاجر باربریکون کے علاوہ جنوبی ہندوستان کی بندرگاہ مزیرس اور سری لنکا تک جاتے تھے۔ مزیرس سے سب سے زیادہ کالی مرچ آتی تھی۔ واپسی پر سامان مصر کی بحیرۂ احمر والی بندرگاہوں سے اونٹوں کے قافلوں پر صحرا پار کر کے دریائے نیل تک، اور وہاں سے اسکندریہ پہنچتا تھا۔

اہمیت

"پیری پلس" ہمیں بتاتی ہے کہ دو ہزار سال پہلے بحیرۂ عرب ایک زندہ تجارتی سمندر تھا، اور سندھ کا ڈیلٹا اس تجارت کا ایک اہم دروازہ تھا جہاں روم کی شیشہ گری اور شراب مشرق کے نیل اور ریشم سے ملتی تھی۔ جس مون سون کو آج ہم بارش کے موسم کے طور پر جانتے ہیں، اسی کی باقاعدگی کو سمجھ لینے سے قدیم دنیا کا ایک بڑا بحری تجارتی راستہ کھلا۔

ماخذ

  1. The Periplus of the Erythraean Sea: Travel and Trade in the Indian Ocean, translated and annotated by Wilfred H. Schoff, Longmans, Green and Co., New York, 1912; §§37–39 and 57, introduction and notes. https://archive.org/details/periplusoferythr00scho
  2. James Hancock, "Periplus of the Erythraean Sea", World History Encyclopedia, 16 July 2021. https://www.worldhistory.org/Periplus_of_the_Erythraean_Sea/
  3. Pliny the Elder, The Natural History, vol. 2, translated by John Bostock and H. T. Riley, Henry G. Bohn, London, 1855; Project Gutenberg eBook #60230, Book VI ch. 26 "Voyages to India". https://www.gutenberg.org/ebooks/60230
  4. J. W. McCrindle, The Commerce and Navigation of the Erythraean Sea; being a translation of the Periplus Maris Erythraei, Thacker, Spink & Co., Calcutta, 1879; Project Gutenberg eBook #55054 (second translation, for comparison). https://www.gutenberg.org/ebooks/55054
  5. The Periplus of the Erythraean Sea (Schoff translation), Internet Ancient History Sourcebook, Fordham University, §§37–39 (text check). https://sourcebooks.fordham.edu/ancient/periplus.asp
  6. Arrian, The Indica of Arrian, translated by J. W. McCrindle, Education Society's Press, Bombay, 1876 (for the earlier voyage along the same coast). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.283258

مہمات: تمام تحریریں ←