رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹورلڈ کپ 2027: پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کے لیے 84 لاکھ درخواستیں موصولگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہچار ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 14 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
باب 30 حصہ چہارم: برطانوی دور

رابرٹ سنڈیمن اور “سنڈیمن نظام

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1841، 1854 اور 1876 کے معاہدوں نے خانِ قلات اور برطانوی حکومت کا رشتہ کیسے بدلا۔ 1876 کے معاہدے کے پیچھے ایک شخص تھا جس کا نام آج بھی بلوچستان کے قبائلی انتظام…

رابرٹ سنڈیمن اور “سنڈیمن نظام
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1841، 1854 اور 1876 کے معاہدوں نے خانِ قلات اور برطانوی حکومت کا رشتہ کیسے بدلا۔ 1876 کے معاہدے کے پیچھے ایک شخص تھا جس کا نام آج بھی بلوچستان کے قبائلی انتظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے: رابرٹ گرووز سنڈیمن (Robert Groves Sandeman)۔ اس باب میں ہم اس کا راستہ ڈیرہ غازی خان سے لسبیلہ تک دیکھیں گے، اور اس "نظام" پر دو طرح کی آرا بھی، جو اس کے نام سے منسوب ہوا: اس کے نوآبادیاتی سوانح نگاروں کی ستائش، اور بعد کے محققین کی تنقید۔

ڈیرہ غازی خان: سرحد کا افسر

سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی۔ ایچ۔ تھارنٹن (T. H. Thornton) لکھتے ہیں کہ 1866 کے شروع میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر نے انہیں ڈیرہ غازی خان کا قائم مقام ضلعی افسر بنایا۔ یہ ضلع پنجاب کی سرحد کے جنوبی سرے پر، سندھ سے متصل تھا۔ 1867 کے شروع میں مری، بگٹی اور کھیتران قبائل کے تقریباً پندرہ سو آدمیوں نے ہڑند پر دھاوا بولا۔ تعاقب میں تقریباً دو سو حملہ آور پکڑے گئے۔ سنڈیمن نے انہیں اس شرط پر روکے رکھا کہ قبائل کے سردار خود آ کر بات کریں۔ راجن پور میں ان سرداروں سے ملاقات ہوئی۔ سرداروں نے لوٹ مار بند کرنے اور پہاڑوں کو جانے والے راستے کھلے رکھنے کا وعدہ کیا۔ بدلے میں سرکار نے چند قبائلی سواروں کو نوکری دی، جن کا کام سرداروں اور حکام کے درمیان رابطہ رکھنا تھا۔ تھارنٹن کے مطابق یہی "قبائلی سروس" کے بڑے نظام کی ابتدا تھی۔ اسی دور میں سنڈیمن نے جھگڑے نمٹانے کے لیے سرداروں اور معتبرین کی پنچایتیں بنائیں۔ بعد میں سبی میں سردیوں اور کوئٹہ میں گرمیوں کے سالانہ جرگے اسی کی توسیع تھے۔

اے۔ ایل۔ پی۔ ٹکر (A. L. P. Tucker) نے 1921 کی سوانح میں لکھا کہ یہ طریقہ سنڈیمن نے پشتون قبائل میں دیکھا تھا اور بلوچوں میں رائج کیا۔ امپیریل گزیٹیئر (1908) کے مطابق فروری 1871 کی مٹھن کوٹ کانفرنس نے قبائلی سواروں کو ملازم رکھنے کا یہ طریقہ مزید پھیلانے کی سفارش کی۔ یہ کانفرنس پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے نمائندوں کے درمیان ہوئی تھی۔

مستونگ کا دربار، 1876

قلات میں خان میر خدائیداد خان اور براہوی سرداروں کی لڑائی برسوں سے چل رہی تھی۔ تھارنٹن کے مطابق سنڈیمن 18 نومبر 1875 کو پہلے مشن پر ڈیرہ غازی خان سے نکلے، اور ان کے ساتھ ضلع کے تمن داروں کی قیادت میں ایک ہزار سے بارہ سو تک بلوچ سوار تھے۔ یہ مشن پوری طرح کامیاب نہ ہوا۔ دوسرا مشن 4 اپریل 1876 کو روانہ ہوا۔ خان 31 مئی کو مستونگ پہنچے۔ اس سے پہلے، 6 جون کی تاریخ والی ایک یادداشت میں، جو ایچی سن (C. U. Aitchison) کے معاہدوں کے مجموعے میں ضمیمے کے طور پر درج ہے، خان نے لکھا کہ وہ سراوان اور جھالاوان کے سرداروں کو ان کی آبائی زمینیں لوٹا دیں گے۔

مستونگ میں چھ ارکان کی ثالثی کمیٹی بنی: تین خان کے نامزد اور تین سرداروں کے۔ سنڈیمن خود آخری ثالث تھے۔ کمیٹی 9 سے 11 جولائی تک بیٹھی، اور 13 جولائی 1876 کو دربار میں مصالحت کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ سردار خان کی اطاعت پر راضی ہوئے اور خان نے ان کے "قدیم حقوق" بحال کیے۔ امریکی ماہرِ بشریات نینا سوئڈلر (Nina Swidler) لکھتی ہیں کہ زیادہ تر تنازعے زمین اور محصول کے تھے اور ان میں سے اکثر کا فیصلہ سرداروں کے حق میں ہوا۔ اسی دوران درۂ بولان کی حفاظت کرد، مینگل، مری اور کاکڑ قبائل کو سونپی گئی، اور طے پانے والے محصول کا ایک حصہ ان کا رکھا گیا۔ امپیریل گزیٹیئر نے مستونگ کے معاہدے کو "براہوی کنفیڈریسی کا میگنا کارٹا" کہا ہے۔

اس کے بعد 8 دسمبر 1876 کو جیکب آباد میں لارڈ لٹن اور خان نے نیا معاہدہ کیا۔ ایچی سن کے متن کے مطابق اس میں 1854 کا معاہدہ دہرایا گیا۔ برطانوی ایجنٹوں کو محافظ دستوں سمیت خان کے دربار اور ریاست میں رہنے کی اجازت ملی، اور خان اور سرداروں کے جھگڑے میں برطانوی ثالثی طے ہوئی۔ برطانوی فوج ٹھہرانے، ریل اور تار کی لائنیں بنانے کی اجازت دی گئی۔ خان کو سالانہ ایک لاکھ روپے، اور تجارتی راستوں کے لیے 20,500 روپے سالانہ الگ سے دینے کا وعدہ ہوا۔ ایچی سن اسی معاہدے کو "بلوچستان ایجنسی کی بنیاد" لکھتا ہے۔

ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل

یکم جنوری 1877 کو دہلی دربار میں سنڈیمن کو سی۔ ایس۔ آئی۔ کا اعزاز ملا، اور 21 فروری 1877 کو انہیں بلوچستان کے لیے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ ان کے ساتھ تین معاون اور ایک طبی افسر تھے۔ ایچی سن کے مطابق ان کا صدر مقام کوئٹہ ٹھہرا اور برطانوی دستے کوئٹہ اور مٹھڑی میں رکھے گئے۔

لیویز اور جرگہ

امپیریل گزیٹیئر لیوی نظام کی تاریخ یوں بیان کرتا ہے: یہ نظام 1867 میں ڈیرہ غازی خان کے چند مری اور بگٹی سواروں سے شروع ہوا۔ بلوچستان آنے پر سنڈیمن نے سرداروں کو الاؤنس دیے تاکہ وہ مقررہ تعداد میں مسلح سوار اور پیادے رکھیں، اپنے قبیلے میں امن رکھیں، اور جرم ہو تو مجرم پیش کریں۔ گزیٹیئر کے مطابق اس نظام کی بنیاد دو مفروضوں پر تھی: ہر قبیلے میں ایسے بااثر سربراہ ہوتے ہیں جو سہارا ملنے پر اطاعت کروا سکتے ہیں، اور کوئی قبائلی معاوضے کے بغیر سرکار کا کام نہیں کرے گا۔ 1904 میں براہِ راست زیرِ انتظام علاقوں میں 2,022 لیویز اور 1,173 پولیس اہلکار تھے، اور مقدمات رواج کے مطابق جرگوں کو بھی بھیجے جاتے تھے۔

تھارنٹن کی کتاب میں ایچ۔ ایس۔ بارنز (H. S. Barnes) نے لکھا کہ جرم ہونے پر الاؤنس نہیں کاٹے جاتے تھے۔ ان الاؤنسوں کو دباؤ کے طور پر استعمال کر کے سرداروں سے اصل مجرم منگوائے جاتے، جن کا مقدمہ قبائلی جرگہ رواج کے مطابق سنتا تھا۔

ستائش اور تنقید

اس نظام پر "بھتہ" دینے کا الزام شروع سے لگتا رہا، اور اس کا دفاع بھی شروع سے ہوتا رہا۔ تھارنٹن نے 5 اگست 1875 کا سنڈیمن کا ایک خط نقل کیا ہے جس میں وہ اپنے مکتوب نگار سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "جیسا کہ آپ کہتے ہیں، بھتہ وہ ادائیگی ہے جو طاقتور ہمسایہ کمزور سے زبردستی لیتا ہے؛ میں کمزور ہمسائے کو مدد دیتا ہوں اور اس کی خدمات لیتا ہوں۔" اسی خط کے مطابق وہ 57 مری سواروں کو سالانہ 14,000 روپے دیتے تھے۔ ٹکر نے اپنی کتاب کو "بلوچستان کا پُرامن فاتح" کا ذیلی عنوان دیا، اور لیویز پر "منظم بھتے" کی تنقید کو بے بنیاد کہا۔ امپیریل گزیٹیئر سنڈیمن کو موجودہ صوبے کا بانی لکھتا ہے۔ اس کے بقول سنڈیمن پہلا افسر تھا جس نے "کلوز بارڈر" کی پالیسی توڑی، اور اس کی پالیسی "مصالحانہ مداخلت" تھی جس کے ساتھ منافع بخش ملازمت اور ہلکے محصول تھے۔

بعد کے محققین نے اسی نظام کو دوسری نظر سے دیکھا ہے۔ سوئڈلر نے 2014 کی کتاب "ریموٹلی کولونیل" میں سنڈیمن اور سندھ کے کمشنر سر ولیم میری ویدر (William Merewether) کے دس سالہ اختلاف کو سرحدی پالیسی کے دو مکتبوں کا ٹکراؤ کہا ہے۔ میری ویدر جان جیکب کے سندھی مکتب کے تربیت یافتہ تھے، اور سنڈیمن پنجاب کے مکتب کے۔ سوئڈلر کے مطابق سنڈیمن کی کامیابی اس بات پر بھی منحصر تھی کہ سردار انہیں اپنا حلیف سمجھتے تھے۔ وہ لکھتی ہیں کہ "خدمت کے عوض وظیفے اور وفاداری کی خریداری کے درمیان ایک باریک لکیر تھی"، اور یہ لکیر اس وقت پار ہو گئی جب ایجنسی کے افسر عدم تعاون کی سزا میں ادائیگیاں روکنے لگے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے محمد فیاض انور نے 2019 کے ایک مقالے میں مری اور بگٹی قبائل کے حوالے سے لکھا کہ تمن داروں کو لیویز کی سربراہی کے ساتھ عدالتی اختیارات بھی ملے۔ ان کے مطابق یوں ایک بالواسطہ حکمرانی قائم ہوئی، اور سرکاری سرپرستی نے ان قبائل کے نسبتاً مساوات پر مبنی ڈھانچے کو آمرانہ ڈھانچے میں بدل دیا۔

لسبیلہ میں انجام

جنوری 1892 میں سنڈیمن لسبیلہ گئے۔ تھارنٹن کے مطابق 23 جنوری کو وہ بیمار پڑے اور ڈاکٹر نے انفلوئنزا تشخیص کیا۔ 29 جنوری 1892 کو لسبیلہ کے کیمپ میں ان کا انتقال ہوا۔ جام کی درخواست پر انہیں یکم فروری کو وہیں دفن کیا گیا، اور جام نے قبر پر گنبد بنوایا۔ وہ فروری 1877 سے جنوری 1892 تک، یعنی تقریباً پندرہ برس، ایجنٹ رہے (سوئڈلر "تقریباً چودہ برس" لکھتی ہیں)۔

اگلے اتوار: کوئٹہ: ایک چھاؤنی شہر کی پیدائش۔

ماخذ

  1. T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on Our Indian Frontier, John Murray, London, 1895. Pages used: 25 (acting District Officer of Dera Ghazi Khan, early 1866); 32–34 (Harrand raid of January 1867; Rajanpur meeting, start of "tribal service", tribal tribunals, annual jirgas at Sibi and Quetta); 67 (first mission leaves Dera Ghazi Khan, 18 Nov 1875); 76, 80–82 (second mission, 4 Apr 1876; Khan at Mastung 31 May; Bolan arrangement; arbitration committee, 9–11 July; darbar of 13 July 1876); 93–94 (treaty provisions, C.S.I. on 1 Jan 1877, gazetted Agent on 21 Feb 1877); 301–304 (H. S. Barnes on tribal service, allowances and jirgas); 315–317 (Sandeman's canons; letter of 5 Aug 1875 on "blackmail"); 265–267 (illness, death on 29 Jan 1892, burial on 1 Feb). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.209278
  2. A. L. P. Tucker, Sir Robert G. Sandeman, K.C.S.I., Peaceful Conqueror of Baluchistan, SPCK, London, 1921. Pages 25–26 (jirga system brought from the Pathan tribes to the Baloch) and 61–62 (reply to the "organised blackmail" criticism of the levies). https://archive.org/details/sirrobertgsandem00tuckrich
  3. C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI ("revised and continued up to 1929"; documents run to 1933), Government of India, Calcutta, read in the Indian reprint by Mittal Publications, Delhi. Pages used: 329–330 (narrative: Mastung, July 1876; Treaty No. XII "the foundation of the Baluchistan Agency"; Agent appointed 21 Feb 1877; troops at Quetta and Mittri); 362–364 (Treaty No. XII, Jacobabad, 8 Dec 1876, articles 1–10); Baluchistan appendices I–II, pp. v–vii (Khan's memorandum of 6 June 1876; rules of 15 Aug 1876). https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
  4. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908. Pages 17 (Mastung agreement as "the Magna Charta of the Brahui confederacy"); 19–20 (Sandeman as founder of the province; policy "humane, sympathetic, and civilizing"; Mithankot conference, Feb 1871); 29 (external support for headmen as "the secret of the Sandeman policy"); 79 (history of the levy system; 1904 figures). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.146799
  5. Nina Swidler, Remotely Colonial: History and Politics in Balochistan, Oxford University Press, Karachi, 2014. Pages about 16–17 (the "Sandeman system" of jirga and levies), 62–63 (Sandeman–Merewether dispute; Close Border), 70–75 (Mastung settlement, the 1876 treaty, subsidies and loyalty, death and legacy). Read from a scan at https://archive.org/details/remotelycolonialhistoryandpoliticsinbalochistan (rights status unclear; cite the print edition).
  6. Muhammad Fiaz Anwar, "'Sandeman System' and the Marri, Bugti Tribes of Baluchistan", Journal of Historical Studies (Bahauddin Zakariya University) V/2 (July–December 2019), pp. 84–104; pages used: 84 (abstract), 97–99 (judicial powers of tumandars; conclusion). https://jhs.bzu.edu.pk/upload/VOl%20II-19_5.%20Sandeman%20System%20and%20the%20Murri,%20Bugti%20Tribes%20of%20Balochistan.pdf_41.pdf
  7. Christian Tripodi, "'Good for one but not the other': The 'Sandeman System' of Pacification as Applied to Baluchistan and the North-West Frontier, 1877–1947", Journal of Military History 73/3 (July 2009), pp. 767–802. https://muse.jhu.edu/article/270200 (could not be opened; listed for the reviewer only, not used in the text).

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←