رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹورلڈ کپ 2027: پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کے لیے 84 لاکھ درخواستیں موصولگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہچار ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 14 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا

آئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاق

آئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاق
فائل فوٹو: پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت — تصویر: بشکریہ gpsmycity.com

اسلام آباد: حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان آئی ایم ایف کی شرائط پر اہم قانون سازی کے حوالے سے اتفاق ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر کے چیمبر میں مذاکرات ہوئے۔ اہم قانون سازی سے متعلق بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رواں اجلاسوں میں پیش کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت قانون سازی اور مختلف قوانین میں مجوزہ ترامیم کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی حکومت کے وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں مالیاتی امور، ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل، سرکاری اداروں کی نجکاری اور مختلف شعبوں سے متعلق قانون سازی کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس بات پر مشاورت کی گئی کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق مجوزہ قانونی ترامیم اور مختلف بلز کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کس طریقہ کار کے تحت منظور کرایا جائے۔ مالیاتی امور سے متعلق بعض قوانین میں تبدیلیوں کے ساتھ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل سے متعلق شرائط بھی زیرِ غور آئیں۔

زیرِ غور قانون سازی

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ان سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں ترامیم کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا جنہیں نجی شعبے کے حوالے کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں مجوزہ قانون سازی اور متعلقہ بلز کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے امور زیرِ بحث آئے۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے مصطفےٰ ایمپیکس کیس میں دیے گئے فیصلے کی روشنی میں بعض بلز کی منظوری کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم اور غذائی شعبوں سے متعلق بعض بلز بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن کے قانونی اور پارلیمانی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایسے بلز کی مخالفت نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اشتہار