اسحاق ڈار استنبول میں آر فور اجلاس میں شریک، سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار

استنبول: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار جمعہ کو استنبول پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل آر فور گروپ کے چھٹے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی۔ وہ ترک وزیر خارجہ حکان فیدان کی دعوت پر آئے تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر جیہاد ارگینے، پاکستان کے قائم مقام سفیر شائق احمد، استنبول میں قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم، ایڈیشنل سیکریٹری سفیر خلیل ہاشمی اور انقرہ کے سفارت خانے و استنبول کے قونصل خانے کے افسران نے ان کا استقبال کیا۔
آر فور اجلاس میں ڈار کے ساتھ ترک وزیر خارجہ حکان فیدان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی شریک ہوئے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزرا نے نیویارک میں گزشتہ ملاقات کے بعد کی علاقائی صورتحال، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور سلامتی کے چیلنجز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سعودی عرب سے یکجہتی ظاہر کی، اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت دہرائی اور مملکت کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی مذمت کی۔
اس کے بعد آر فور کا اجلاس فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہوا۔ دفتر خارجہ کے مطابق خلیج کی صورتحال، اس کے سماجی و معاشی اثرات اور سفارتی رابطوں کی ضرورت پر تبادلہ خیال ہوا۔ ڈار نے کشیدگی کم کرنے، دوبارہ جنگ چھڑنے سے روکنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار سے آگاہ کیا۔ تمام وزرا اس فارمیٹ میں رابطہ جاری رکھنے پر متفق ہوئے۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سعودی عرب میں شہری آبادی اور شہری انفراسٹرکچر پر حوثی حملوں کی مذمت کی گئی اور حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں یمن اور سعودی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔
رائٹرز نے ترک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں فلسطین اسرائیل مسئلے، آبنائے ہرمز کی صورتحال، یمن، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں اور علاقائی و یورپی ممالک کے تعاون پر بات متوقع تھی۔ ذریعے کے مطابق فیدان امریکا ایران جنگ کے سفارتی حل، ہرمز اور باب المندب میں آزادیٔ جہاز رانی پر زور دیں گے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ترکیہ کی حمایت دہرائیں گے۔
دورے کے دوران ڈار کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات اور اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔











