ایران امریکا کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن سفارتی کوشش کی، محسن نقوی کا دوحہ میں خطاب

دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن سفارتی کوشش کی۔
دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران کئی مواقع پر صورت حال انتہائی کشیدہ ہوئی، تاہم پاکستان نے مشکل حالات میں بھی سفارتی رابطے منقطع نہیں ہونے دیے۔
انہوں نے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی اور پاکستان اس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل کا کردار
محسن نقوی نے ایران امریکا کشیدگی کم کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل نے عالمی رہنماؤں سے روابط اور سفارتی رابطوں کے ذریعے مذاکرات کے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ ایران کے دوروں پر گئے اور اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں شریک رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کا بنیادی مقصد تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا اور خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا تھا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ ان کے بیان کے مطابق جون میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی اور قطری قیادت کے درمیان 16 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکراتی عمل کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کے شراکت داروں کا مقصد سفارتی کامیابی کا کریڈٹ لینا نہیں بلکہ مزید تصادم کو روکنا اور بے گناہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ پاکستان ایسا مستقبل چاہتا ہے جہاں جنگیں شروع ہونے سے پہلے ہی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور انسداد دہشت گردی
وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد جنگی کارروائیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کوششوں کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں۔











