پی ٹی آئی کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے تھے، ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں چل سکتیں: عطا تارڑ

اسلام آباد (اعتماد ڈیسک): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں چل سکتیں؛ یہ نہیں ہو سکتا کہ وفاق افغانستان سے دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کرے جبکہ صوبائی حکومت اپنی الگ پالیسی چلائے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے تھے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب اور حکمرانی کا نظام مفلوج ہو چکا تھا؛ صوبائی حکومت نے ایپکس کمیٹیوں کے اجلاس نہ کر کے خلیج پیدا کی اور وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے خلاف طے شدہ اتفاق رائے مسترد کر دیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؛ معدنیات، لکڑی، تمباکو، سونے اور قیمتی پتھروں کی سرحد پار اسمگلنگ کی شکایات ملتی رہیں مگر اس پر ہاتھ نہ ڈالنا صوبائی حکمرانی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے بقول جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کے اثر و رسوخ کی مصدقہ اطلاعات بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت خیبرپختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے دیے گئے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ وسائل انسداد دہشت گردی کے محکمے، سیف سٹی کیمروں، فرانزک لیب اور پولیس کے جدید آلات پر کیوں خرچ نہیں ہوئے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا پولیس صف اول میں قربانیاں دے رہی ہے مگر اسے مناسب تربیت اور وسائل نہیں دیے گئے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ صوبے کے 12 اضلاع کے لیے ایک ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل بنائی جا رہی ہے، جس کا ڈھانچہ چیئرمین، وائس چیئرمین، ارکان اور ایک ترجمان پر مشتمل ہوگا۔











