ترکیہ کی پارلیمانی کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی

استنبول: ترکیہ کی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی۔ بل کو حتمی منظوری کے لیے ترک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ترک میڈیا کے مطابق حکومت نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا معاہدہ جارحیت نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہے، اور اس کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے۔
علاقائی سلامتی
ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ اور حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رکن فواد اوکتائے نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ، روس یوکرین جنگ اور قفقاز، بلقان اور شمالی افریقا میں کشیدگی علاقائی سلامتی پر براہ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ علاقائی ملکیت اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق معاہدہ کسی ملک کے خلاف اتحاد بنانے یا توسیع پسندی کے لیے نہیں، بلکہ دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے ہے۔











