حوثی حملوں سے ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ، ریاض ایئر کا آپریشن القصیم منتقل

ریاض: حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سعودی دارالحکومت کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور 8 سے 25 اکتوبر کے دوران 86 فیصد پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
فضائی تجزیاتی ادارے سیریئم کے اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں ایئرپورٹ سے 4 ہزار 736 پروازیں طے تھیں، جن میں سے 4 ہزار 71 منسوخ کر دی گئیں۔ ٹکر نیوز کے مطابق اسی عرصے میں سعودی عرب بھر میں 45 فیصد روانگیاں بھی متاثر ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حوثی حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ریاض ایئرپورٹ کو کئی بار نشانہ بنایا گیا۔ 10 اکتوبر کے حملے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد ایئرپورٹ کئی روز بند رہا۔
سعودی حکام نے اتوار کو ایئرپورٹ جزوی طور پر کھول دیا۔ ٹرمینل 1 سے اندرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں جبکہ ٹرمینل 2 سے بین الاقوامی پروازوں کی اجازت دی گئی۔ ٹکر نیوز کے مطابق پیر کو حوثیوں نے ایئرپورٹ کو “فوجی ہدف” قرار دے کر مزید حملوں کا اعلان کیا۔ گزشتہ جمعرات کو حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ریاض میں سعودی وزارتِ دفاع، ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور دمام و ابہا کے ہوائی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے نومبر تک ریاض کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ امریکی کمپنی ڈیلٹا نے ریاض کے لیے اپنے نئے روٹ کا آغاز اگلے سال تک مؤخر کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس سمیت ریاض میں ہونے والی کئی بڑی تقریبات منسوخ یا ملتوی کر دی گئی ہیں، اور کانفرنس 2027 تک موخر ہوئی ہے۔
ایئر ڈیٹا نیوز کے مطابق سعودی ایئرلائن ریاض ایئر نے اپنے آپریشن کا کچھ حصہ ریاض سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) شمال میں القصیم منتقل کر دیا ہے۔ 25 اکتوبر سے عارضی طور پر لندن ہیتھرو، قاہرہ، جدہ، ڈھاکا، لاہور اور اسلام آباد کی پروازیں وہاں سے چلائی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر روٹس معطل ہیں۔ ریاض کے مسافر شہر میں چیک اِن کر کے بسوں کے ذریعے القصیم جاتے ہیں، جس کا سفر تقریباً ساڑھے چار گھنٹے کا ہے۔ بسیں پرواز سے 6 گھنٹے 15 منٹ پہلے روانہ ہوتی ہیں۔
ریاض ایئر نے 10 جون کو مکمل تجارتی آپریشن شروع کیا تھا اور اس کے نیٹ ورک میں 16 منزلیں شامل ہو چکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق القصیم بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی زد سے باہر نہیں۔











