حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب نے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس اگلے سال تک ملتوی کر دی

ریاض: سعودی عرب نے ایران نواز حوثیوں کے مہلک حملوں کے تناظر میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کانفرنس اگلے سال تک ملتوی کر دی ہے۔ کانفرنس کی سرکاری ویب سائٹ پر پیر کو جاری بیان کے مطابق یہ سالانہ تقریب 26 اکتوبر سے 29 اکتوبر تک ہونا تھی، جبکہ آئندہ سال کی نئی تاریخ کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔ الجزیرہ کے مطابق ریاض نے کانفرنس 2027 تک مؤخر کی ہے۔
ایف آئی آئی انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر maha بنت مشاری آل سعود نے کہا کہ یہ فیصلہ شراکت داروں، اراکین، مقررین اور مندوبین کے ساتھ گہری وابستگی کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول یہ کانفرنس کا دسواں ایڈیشن ہے، اس لیے منتظمین چاہتے ہیں کہ یہ مکمل پیمانے، غیر معمولی معیار اور یادگار اثر کے ساتھ منعقد ہو۔
کانفرنس کی ویب سائٹ کے مطابق متوقع مقررین میں الفابیٹ اور گوگل کی صدر و چیف انویسٹمنٹ آفیسر روتھ پوراٹ، گولڈمین ساکس کے چیئرمین و سی ای او ڈیوڈ سولومن اور بلیک راک کے چیئرمین و سی ای او لارنس فنک شامل تھے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی مناسبت سے اسے غیر رسمی طور پر ڈیووس ان ڈیزرٹ کہا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی اس تقریب میں مملکت کے بڑے سرمایہ کاری منصوبے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ معیشت کو تیل اور گیس سے ہٹا کر سیاحت، کھیل اور ٹیکنالوجی کی جانب منتقل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔
سعودی قیادت والے اتحاد، جو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، اور ایران سے ہم آہنگ حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق انصار اللہ کہلانے والے حوثیوں نے سعودی عرب میں فوجی، توانائی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی شامل ہے۔ ان حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
اے ایف پی کو ایک ملازم اور دو مشیروں نے بتایا کہ ریاض میں سرکاری اداروں نے عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک سرکاری ادارے کے ملازم کو اتوار کو پیغام ملا کہ اس ہفتے پیر سے جمعرات تک دور سے کام کیا جائے گا۔ شہر کے وسط میں 99 منزلہ کنگڈم سینٹر ٹاور، جہاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا علاقائی دفتر ہے، نے بھی اگلے احکامات تک کارکنوں کو نہ آنے کا کہا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں قائم کمپنیوں نے بھی، جہاں بڑی امریکی فرموں کے دفاتر ہیں، ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔











