کم جونگ اُن نئے پل کے ذریعے چینی شہر ڈانڈونگ پہنچے، وانگ ہننگ سے ملاقات

بیجنگ: شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن ہفتے کے روز نئے تعمیر شدہ نیو یالو ریور برج کے ذریعے چین کے سرحدی شہر ڈانڈونگ پہنچے۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد نے ان کی آمد کی تصدیق کی۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق وہ ایک روزہ دورے کے بعد وطن واپس چلے گئے۔
شنہوا کے مطابق کم جونگ اُن کے ہمراہ چین کے چوتھے اعلیٰ ترین عہدیدار وانگ ہننگ رہے، جنہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے خیرسگالی کے جذبات اور نیک خواہشات پہنچائیں۔ دونوں رہنماؤں نے ڈانڈونگ میں کوریا کی جنگ کی یادگار کا دورہ کیا، جہاں کم جونگ اُن نے ان چینی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو جنگ میں شمالی کوریا کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔ انہوں نے ایک مقامی گاڑی ساز کارخانے کا بھی دورہ کیا۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ پیانگ یانگ تاریخی دوستی کو آگے بڑھانے اور عملی تعاون کو وسعت دینے کے لیے چین کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ شنہوا کے مطابق دونوں فریقوں نے اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک رابطہ اور تعاون مضبوط کرنے، نیز عوامی روابط اور اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔ وانگ ہننگ نے بعد میں نئے پل پر انہیں رخصت کیا۔
یہ دورہ چین کی 1950 تا 1953 کی کوریا جنگ میں شمولیت کی سالگرہ کی पूर्व شام سے ہم آہنگ رہا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ واضح نہیں تھا کہ کم جونگ اُن یادگاری تقریبات میں شریک ہوں گے یا نہیں۔ دورہ پیر کو بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پانچویں مکمل اجلاس سے پہلے ہوا۔
تین کلومیٹر طویل چار لین والا یہ پل 2014 میں مکمل ہوا تھا، مگر شمالی کوریا کی جانب رابطہ سڑکوں اور کسٹم سہولتوں کی کمی کے باعث 12 سال استعمال میں نہ آ سکا۔ یہ تقریباً ایک ہفتہ قبل باضابطہ طور پر کھولا گیا۔ توقع ہے کہ اس پر چوبیس گھنٹے دو طرفہ ٹریفک، کنٹینر اور بھاری مال بردار ٹرک گزر سکیں گے۔ لیاؤننگ اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ماہر لو چاؤ نے رائٹرز کو بتایا کہ پل نے دوطرفہ تجارتی ترسیل کی بڑی رکاوٹ دور کر دی ہے اور تجارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، تاہم دونوں کے تعلقات ہمیشہ ہموار نہیں رہے۔ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد پیانگ یانگ ماسکو کے قریب ہوا ہے۔ کم جونگ اُن کا اس سے قبل معلوم دورۂ چین ستمبر 2025 میں بیجنگ میں 80ویں یومِ فتح کی تقریبات کے لیے تھا، جہاں انہوں نے شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ شی جن پنگ جون میں شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔











