پارلیمنٹرینز کے پاسپورٹ کے اجرا کے لیے این او سی طلب نہیں کیا گیا: طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹرینز کے پاسپورٹس کے اجرا کے لیے کسی قسم کا این او سی یا پیشگی منظوری طلب نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صرف حیثیت کی تصدیق کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ویریفیکیشن کا عمل اعلیٰ سطح پر منتقل کیا گیا ہے۔
پیر کو سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کی شناخت اور حیثیت کی تصدیق کا نظام پہلے سے موجود تھا، تاہم اب اس عمل کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ متعلقہ تصدیق اعلیٰ سطح پر کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد این او سی یا منظوری کی نئی شرط عائد کرنا نہیں ہے۔
طلال احمد چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹرینز کے بچوں کو 28 سال کی عمر تک پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق معاملے پر کمیٹی اور پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر اٹھائے گئے تحفظات اور قانون میں موجود بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت خود قانون سازی کرے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاسپورٹ کی مدت کے حوالے سے متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت مختلف مدت کے پاسپورٹس جاری کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ پارلیمنٹرینز کو تاحیات پاسپورٹ کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چیئرمین سینیٹ اور ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے طریقہ کار کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ پارلیمنٹرینز کو پاسپورٹ کے حصول کے سلسلے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔











