پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند

بنوں: پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا سید نسیم علی شاہ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت 30 دن کے لیے نظر بند کرنے کا حکم سامنے آ گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ حکم بنوں کے ڈپٹی کمشنر ضیاء الرحمٰن نے جاری کیا، جو بدھ کو منظر عام پر آیا۔
حکم نامہ 19 اکتوبر کو جاری ہوا۔ اس میں ڈپٹی کمشنر نے ایم پی او کی دفعہ 3(1) کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رکن اسمبلی کو سینٹرل جیل ہری پور میں 30 روز تک رکھا جائے، الا یہ کہ حکم اس سے پہلے واپس لے لیا جائے۔ نظر بندی کی مدت گرفتاری اور حراست کے وقت سے شروع ہوگی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور مقامی لوگوں کو غیر قانونی احتجاج میں شرکت پر اکسا رہا ہے۔ الزامات میں سرکاری راستے بند کرنا اور سرکاری امور کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے بقول پیش کردہ مواد سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی موجودگی عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی اور امن عامہ متاثر ہو سکتا ہے۔
حکم کی نقول خیبر پختونخوا کے ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، بنوں ڈویژن کے کمشنر، بنوں اور ہزارہ کے ریجنل پولیس افسران اور بنوں و ہری پور کے ڈی پی اوز کو بھیجی گئیں۔ سینٹرل جیل ہری پور کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی کہ انہیں حکم کے مطابق تحویل میں رکھا جائے۔
پیر کو پولیس نے نسیم علی شاہ کو بنوں کے علاقے غوری والا میں ان کے مدرسے جامعہ مرکز الاسلامی سے گرفتار کیا۔ اس وقت پولیس کی جانب سے گرفتاری کی وجوہات پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا تھا اور ان کے خلاف مقدمات یا ٹھکانے کی تفصیل واضح نہیں تھی۔
گرفتاری کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں پولیس اہلکار انہیں لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایم ایم نیوز کے مطابق ویڈیو میں نسیم شاہ کچھ مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں، جس پر اہلکار انہیں زبردستی لے گئے، جبکہ موقع پر رینجرز اہلکار بھی موجود تھے۔
ایم ایم نیوز کے مطابق ڈپٹی کمشنر بنوں نے وضاحت کی کہ انہیں ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار کر کے مانسہرہ میں رکھا گیا ہے۔











