رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 20° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:05مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹورلڈ کپ 2027: پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کے لیے 84 لاکھ درخواستیں موصولبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان

کالعدم بی ایل اے کی کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش ناکام

کالعدم بی ایل اے کی کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش ناکام

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ 16 سالہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے مقاصد اور مبینہ پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا، جبکہ زینب کے شوہر کو بھی تنظیم نے قتل کیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد خواتین اور بچیوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس عمل سے بلوچ معاشرے کی روایات اور خواتین کے احترام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زینب جنوبی بلوچستان کی رہائشی ہے اور اس کے 8 سے 10 رشتہ داروں کو بی ایل اے نے مختلف اوقات میں قتل کیا، زینب کی 16 سال کی عمر میں سیف نامی ایک پرامن شہری سے شادی ہوئی تھی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر نے سیف کو تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، اس مقصد کے لیے کمانڈر نے کسی ذریعے سے سیف کا موبائل نمبر حاصل کیا اور اس سے رابطہ کرکے اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ناکامی کے بعد مبینہ طور پر سیف کو قتل کردیا گیا۔

میر ضیا لانگو کے مطابق سیف کی لاش، اس کا موبائل فون اور دیگر سامان گھر پہنچایا گیا، تاہم اس کے بعد مذکورہ کمانڈر نے زینب سے رابطہ کیا اور اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہی وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشت گرد نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خواتین اور بچیوں کو پہاڑوں پر لے جا کر مسلح گروہوں کے ساتھ رکھنے کا عمل بلوچ روایات کے منافی ہے۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین، بہنوں اور بیٹیوں کے احترام کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے، تاہم دہشت گرد گروہ مبینہ طور پر خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرکے ان روایات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے بیرون ملک مقیم بلوچ افراد سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کسی نامحرم مرد کے ساتھ پہاڑوں پر بھیجنے اور مسلح گروہوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں بھارت کے بیانیے کے تحت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے خواتین اور بچوں کو استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ ریاست دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلائے جانے والے بیانیے کا بھی مقابلہ کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے زینب کو بھی مدعو کیا تاکہ وہ مبینہ طور پر پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اپنی روداد بیان کرسکے۔

زینب کا بیان

اس موقع پر زینب نے انکشاف کیا کہ بی ایل اے کمانڈر نے میرے شوہر کے قتل کا الزام اداروں پر لگایا، مجھے شوہر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے آمادہ کیا گیا، کم عمر فاطمہ میری کزن اور ہر وقت میرے ساتھ ہوتی تھی، میرے ساتھ ہونے کی وجہ سے فاطمہ مقامی کمانڈر سے رابطے میں آئی۔

زینب نے بتایا کہ فاطمہ کے والد کو بھی بی ایل اے نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا، فاطمہ کو میری طرح جذباتی بنا کر بی ایل اے کا حصہ بننے پر راضی کیا گیا، ہم دونوں اداروں سے بدلہ لینے کی باتوں میں آکر بی ایل اے کے پاس پہنچیں۔

زینب نے مزید بتایا کہ ہمیں 40 روز تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، نامعلوم مقام پر موجود لوگوں نے ہمیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا

موضوعات:
اشتہار