رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹپاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کا ٹائٹل دفاع کرنے کے لیے پرعزم: شاہد انورگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان

8 جون 1883: کوئٹہ اور درۂ بولان انگریزوں کے حوالے

جمعہ، 8 جون 1883۔ خانِ قلات میر خداداد خان اور بلوچستان میں گورنر جنرل کے ایجنٹ سر رابرٹ سنڈیمن ایک دستاویز پر مہر اور دستخط ثبت کر رہے ہیں۔ اس کے تحت کوئٹہ کا ضلع اور نیابت انگریزی حکومت کے…

8 جون 1883: کوئٹہ اور درۂ بولان انگریزوں کے حوالے
علامتی تصویر

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔

جمعہ، 8 جون 1883۔ خانِ قلات میر خداداد خان اور بلوچستان میں گورنر جنرل کے ایجنٹ سر رابرٹ سنڈیمن ایک دستاویز پر مہر اور دستخط ثبت کر رہے ہیں۔ اس کے تحت کوئٹہ کا ضلع اور نیابت انگریزی حکومت کے مکمل انتظام میں چلے جائیں گے، اور درۂ بولان سے گزرنے والی تجارت پر محصول لینے کا حق بھی۔ بدلے میں خان کو ہر سال مقررہ رقم ملے گی۔ ایچی سن کے مجموعۂ معاہدات میں یہ "معاہدہ نمبر 14" کے نام سے درج ہے، اور کوئٹہ پشین کا ضلعی گزیٹیئر (1906) اور درۂ بولان کا گزیٹیئر، دونوں اس کی تاریخ 8 جون 1883 لکھتے ہیں۔ آج کا کوئٹہ شہر جس شکل میں ابھرا، اس کی ایک بنیاد یہی کاغذ ہے۔

1876 سے 1883 تک

کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1876 میں، جیکب آباد کے معاہدے کی توثیق سے پہلے، خان کی رضامندی سے سنڈیمن کے محافظ دستے کے تین سو سپاہی کیپٹن سکاٹ کی کمان میں کوئٹہ میں ٹھہرائے گئے۔ 1877 کے اوائل میں بلوچستان ایجنسی بنی اور اس کا صدر مقام کوئٹہ رکھا گیا۔ اسی سال کے آخر میں خان نے خود تجویز دی کہ ایجنٹ کا ایک اسسٹنٹ زمین کا محصول اور چھاؤنی کی چنگی وصول کرے، البتہ قافلوں کی راہداری فیس قلات کے اہلکاروں کے پاس رہی۔

گزیٹیئر کے مطابق 1877 میں لیفٹیننٹ ہیوسن کے قتل کے بعد کوئٹہ کے قلعے (میری) پر انگریزی فوج قابض ہو گئی۔ اپریل 1879 میں حکومتِ ہند نے کوئٹہ نیابت کا انتظام پانچ برس کے لیے سنبھالا، اس شرط کے ساتھ کہ انتظامی خرچ نکال کر بچت خان کو دی جائے گی۔ یہ بندوبست چار برس چلا۔ ان برسوں میں کل آمدن دو لاکھ انتالیس ہزار روپے سے کچھ زیادہ رہی، پہلے تین سال بچت خان کو ملی، اور چوتھے سال 1882-83 میں پچیس ہزار روپے یکمشت دیے گئے۔

بولان کا معاملہ الگ تھا۔ بولان گزیٹیئر لکھتا ہے کہ انگریزی عمل دخل بڑھنے کے ساتھ تاجر ہرنائی کا راستہ ترجیح دینے لگے، جہاں محصول نہیں تھا، امن تھا اور بار برداری کے جانور آسانی سے ملتے تھے۔ بولان سے تجارت ہٹنے لگی اور خان کی راہداری کی آمدن گر گئی۔ اسی پر بولان کی منتقلی کی بات چیت شروع ہوئی۔

معاہدے میں کیا تھا

ایچی سن کے چھپے ہوئے متن کے مطابق معاہدہ ایک طرف خانِ قلات اور دوسری طرف سنڈیمن کے درمیان ہوا، اور وائسرائے کی توثیق سے مشروط تھا۔ دیباچے میں لکھا ہے کہ 1879 کے بندوبست کی مدت تقریباً پوری ہو چکی ہے اور تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ کوئٹہ کا انتظام صرف انگریز افسروں کے ہاتھ میں رہنا دونوں حکومتوں کے فائدے میں ہے۔

  • کوئٹہ: خان نے اپنی، اپنے وارثوں اور جانشینوں کی طرف سے کوئٹہ ضلع اور نیابت کا "پورا انتظام"، مکمل مالیہ، دیوانی اور فوجداری اختیار اور انتظام کے تمام اختیارات یکم اپریل 1883 سے انگریزی حکومت کے سپرد کیے۔
  • کرایہ: بچت کی جگہ خان کو ہر سال 31 مارچ کو پچیس ہزار روپے کا "مقررہ سالانہ کرایہ" ملے گا، پہلی ادائیگی 31 مارچ 1884 کو؛ جب تک انگریز انتظام کریں، اس رقم سے انتظامی خرچ نہیں کاٹا جائے گا۔
  • بولان: خان نے یکم اپریل 1883 سے بولان سے گزرنے والی تجارت پر محصول کا حق انگریزی حکومت کو منتقل کیا، جس کے بدلے تیس ہزار روپے سالانہ دو قسطوں میں ملیں گے۔ سراوان اور کرد سرداروں کو ان کے حصے کے بدلے الگ مقررہ رقم ملے گی؛ بولان گزیٹیئر کے مطابق سردار اسد خان کو تین ہزار اور سردار یار محمد کرد کو دس ہزار روپے سالانہ۔
  • دائرۂ اختیار: درۂ بولان کی حدود میں، اور رِندلی میں ریلوے سٹیشن کے لیے خریدی گئی زمین پر، دیوانی اور فوجداری اختیار بھی انگریزی حکومت کو دیا گیا۔

متن کے مطابق وائسرائے لارڈ رپن نے 19 ستمبر 1883 کو شملہ میں اس کی توثیق کی۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر اسے "دائمی کرایہ" کہتا ہے، اور امپیریل گزیٹیئر (1908) کے الفاظ میں کوئٹہ پچیس ہزار روپے سالانہ پر انگریزی حکومت کو "پٹے پر دیا گیا"۔

سنڈیمن کا کردار

دستاویز پر انگریزی حکومت کی طرف سے دستخط سنڈیمن کے ہیں۔ ان کے سوانح نگار ٹی ایچ تھارنٹن (1895) کوئٹہ کی منتقلی کو ہیوسن کے قتل اور قلعے پر قبضے کے سلسلے کی آخری کڑی بتاتے ہیں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق اسی سال کوئٹہ کو چھاؤنی قرار دیا گیا اور کوئٹہ کو پشین اور شوراورد کے ساتھ ملا کر ایک انتظامی اکائی بنایا گیا۔

دو نقطۂ نظر

سرکاری ریکارڈ۔ گزیٹیئر اس انتظام کو ترقی کی بنیاد بتاتے ہیں۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1878 سے 1883 کے بیچ شہر اور چھاؤنی کے لیے زمین سو روپے فی ایکڑ پر خریدی گئی، جب کہ 1905 تک شہر میں عمارتی پلاٹ کی قیمت تقریباً تین ہزار روپے فی ایکڑ ہو چکی تھی۔

تنقیدی جائزہ۔ محمد نعیم اور نسرین افضل (دی ڈائیلاگ، 2025) کوئٹہ، نوشکی، نصیر آباد اور بولان کو "پٹے کے علاقے" کے الگ زمرے میں رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں کوئٹہ انتظام اور تجارت کا مرکز بن کر قلات سے آگے نکل گیا اور خانیت کی حیثیت محض انتظامی رسم بن کر رہ گئی۔ ایچی سن کا 1933 کا ایڈیشن یہ بھی لکھتا ہے کہ بعد میں بولان میں معدنیات نکلنے پر جب پرانے معاہدے دیکھے گئے تو معلوم ہوا کہ درے کی تمام آمدن کا حق ریاستِ قلات کا ہے۔

دنیا میں اس مہینے

  • 16 جون 1883، سنڈرلینڈ (انگلستان): وکٹوریہ ہال میں تحفے لینے کی بھگدڑ میں 183 بچے دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔
  • 30 جون 1883، انگلستان: رابرٹ لوئی سٹیونسن کا ناول "دی بلیک ایرو" ایک رسالے میں قسط وار چھپنا شروع ہوا۔

آگے کیا ہوا

  • 1884: ایچی سن اور امپیریل گزیٹیئر کے مطابق بولان کا محصول ختم کر دیا گیا اور رئیسانی، کرد اور دوسرے قبائل کو، جو راہداری کی آمدن میں شریک تھے، الاؤنس دیے گئے۔ سر تھامس ہولڈچ نے لکھا کہ 1884 کا کوئٹہ 1878 کے کوئٹہ سے "بہت مختلف" تھا۔
  • 1887: تھارنٹن کے مطابق حکومتِ ہند کی ایک قرارداد سے پشین، سبی اور ملحقہ علاقے باقاعدہ انگریزی علاقے میں شامل کر کے "برٹش بلوچستان" کہلائے۔ کوئٹہ اس میں شامل نہیں تھا؛ امپیریل گزیٹیئر اور ایچی سن کے مطابق وہ "ایجنسی علاقوں" میں پٹے کی نیابت کے طور پر الگ رہا۔ نعیم اور افضل کے مطابق سندھ سے ریل اسی برس کوئٹہ پہنچی۔
  • آبادی: کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1876 سے پہلے قلعے کے گرد بسے قصبے کی آبادی تقریباً چار ہزار تھی؛ 1891 کی پہلی مردم شماری میں 18,802 اور امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1901 میں 24,584 ہو گئی۔
  • 1891 اور 1896: چھاؤنی، شہر اور ریلوے کے لیے نلکے کے پانی کا نظام 1891 میں مکمل ہوا۔ 15 اکتوبر 1896 کو کوئٹہ میونسپل قانون نافذ ہوا (نوٹیفکیشن 6992 اور امپیریل گزیٹیئر؛ کوئٹہ پشین گزیٹیئر یکم اکتوبر لکھتا ہے)، اور کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 17 اکتوبر کو پہلی میونسپل کمیٹی مقرر ہوئی۔
  • 1899 اور 1903: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق نوشکی مستقل پٹے پر لیا گیا، اور 1903 میں نصیر آباد کی زمینیں دائمی پٹے پر حاصل کی گئیں۔

کیا آپ کے پاس انیسویں صدی کے کوئٹہ، درۂ بولان یا خانِ قلات کے دربار سے متعلق کوئی پرانی دستاویز، سند یا تصویر ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔

ماخذ

  1. C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI, 5th ed., Calcutta, 1933: Agreement No. XIV (1883), full text (parties; date "8th day of June 1883" in OCR as "Sth"; preamble; arts. 1–4 on Quetta management, Rs 25,000 rent payable 31 March from 1884, Bolan tolls for Rs 30,000, jurisdiction in the Pass and at Rindli; signatures of the Khan, Sandeman and Ripon; ratification at Simla, 19 September 1883); Kalat narrative (1879 arrangement, 1883 lease of the Quetta Niabat; Bolan tolls abolished 1884; later finding that the Pass revenues vested in Kalat); Quetta among the "assigned Niabats" in the Agency. https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
  2. R. Hughes-Buller, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin District, Bombay: Times Press, 1907 (preface dated Quetta, September 1906), pp. 42–43 (escort at Quetta 1876; Agency 1877; the Khan's 1877 proposals; lease from March 1883 at Rs 25,000), p. 226 (April 1879 arrangement; revenue Rs 2,39,290; lump sum 1882–83; "agreement dated June 8, 1883"; "perpetual rent"), material-condition section (land prices 1878–1883 and 1905), Quetta town article pp. 332–337 (population before 1876 and in 1891; Hewson's murder and occupation of the fort; Holdich on Quetta 1878–1884; land purchase; municipality 1896). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
  3. R. Hughes-Buller, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. IV: Bolan Pass and Nushki Railway District, 1906, History section, "Cession of the Bolan to the British Government" (Harnai route; loss of transit dues; Rs 30,000; Rs 3,000 to Sardar Asad Khan and Rs 10,000 to Sardar Yar Muhammad Kurd; "agreement dated June 8, 1883"; clauses 2–4). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279669
  4. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908 (Quetta-Pishin District: Quetta leased in 1883 for Rs 25,000, single charge with Pishin and Shorarud 1883; Bolan Pass: jurisdiction and tolls ceded 1883, tolls abolished 1884; finance: revenue 1877–1883; Quetta cantonment 1883; British Baluchistan vs Agency Territories; Nushki 1899, Nasirabad 1903; Quetta town: population 1891 and 1901, water supply 1891, municipal system 1896). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
  5. T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, London: John Murray, 1895, p. 116 note (Hewson's assassination, occupation of the fort and cession of Quetta for Rs 25,000) and p. 170 (1887 resolution creating "British Baluchistan"). https://archive.org/details/india.history.resource.92336
  6. Muhammad Naeem and Nasreen Afzal, "The British Occupation of Kalat: A Critical Appraisal of the Establishment of British Rule in Baluchistan", The Dialogue (Qurtuba University), vol. 20, no. 2, April–June 2025, pp. 92–94 (the "leased areas"; Quetta overtaking Kalat; railway to Quetta 1887, citing Axmann). https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/download/86126/469/7682
  7. On the Quetta Municipal Law: Imperial Gazetteer of India, Baluchistan (1908), p. 74 (in force 15 October 1896), https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan · British Enactments in Force in Native States, p. 426 (Notification No. 6992), https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.81384 · Quetta-Pishin Gazetteer (source 2), pp. 335–337 (1 October 1896; committee 17 October).

تاریخ کے اوراق: تمام تحریریں ←