ہارون الرشید: تاریخ کا خلیفہ اور داستانوں کا بادشاہ
آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک بغداد تھا، جسے عباسی خلیفہ المنصور نے دجلہ کے کنارے اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔ اسی شہر سے 786ء سے 809ء تک ہارون الرشید (Harun al-Rashid)…

آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک بغداد تھا، جسے عباسی خلیفہ المنصور نے دجلہ کے کنارے اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔ اسی شہر سے 786ء سے 809ء تک ہارون الرشید (Harun al-Rashid) نے ایک ایسی سلطنت پر حکومت کی جو شمالی افریقہ سے وسط ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ انہیں "الف لیلہ" کی کہانیوں سے جانتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک حقیقی حکمران تھا جس کا دور عباسی خلافت کا عروج سمجھا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی
ہارون عباسی خلیفہ المہدی کے بیٹے تھے اور ان کی والدہ کا نام خیزران تھا۔ ان کے سالِ پیدائش کے بارے میں روایات مختلف ہیں: بعض روایات کے مطابق 763ء اور بعض کے مطابق 766ء۔ برطانوی مورخ ولیم میور (William Muir) کے مطابق وفات کے وقت ان کی عمر سینتالیس برس تھی۔
خلافت سے پہلے ہی ہارون کو فوجی مہمات کی کمان سونپ دی گئی تھی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 782ء میں ان کے والد نے انہیں بازنطینی ملکہ آئرین (Irene) کی افواج کے خلاف بھیجا، اور بازنطینیوں کو صلح کرنی پڑی۔ میور کے مطابق اس مہم سے خوش ہو کر والد نے انہیں مغربی صوبوں کا نگران بنایا اور دو برس بعد "الرشید" یعنی "راست رو" کے لقب کے ساتھ ولی عہد دوم مقرر کیا۔
خلافت اور برامکہ
المہدی کی وفات کے بعد ہارون کے بڑے بھائی الہادی خلیفہ بنے، مگر ان کا دور ایک سال سے کچھ زیادہ ہی رہا۔ ستمبر 786ء میں الہادی کی وفات پر ہارون خلیفہ بنے۔
حکومت کے انتظام کے لیے ہارون نے اپنے اتالیق یحییٰ بن خالد برمکی کو وزیر مقرر کیا۔ میور کے مطابق یحییٰ کے دو بیٹے فضل اور جعفر بھی سلطنت میں غیر معمولی اختیارات رکھتے تھے؛ فضل ایک قابل منتظم تھے اور جعفر خلیفہ کے قریبی ساتھی۔ برامکہ (Barmakids) کا یہ خاندان تقریباً سترہ برس تک حکومت کے انتظام پر چھایا رہا۔
پھر 803ء میں اچانک خلیفہ نے اس خاندان کے خلاف کارروائی کی: جعفر کو قتل کر دیا گیا، باقی افراد گرفتار ہوئے اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ اس واقعے کی اصل وجوہات آج بھی مورخین کے ہاں واضح نہیں۔ قدیم مورخ طبری نے کئی وجوہات گنوائی ہیں، جبکہ جدید مورخین کا ایک خیال یہ ہے کہ خلیفہ ایک ایسے گروہ سے نجات چاہتا تھا جو اس کے اختیار کو محدود کر سکتا تھا۔ میور نے اس واقعے کو ہارون کے نام پر ایک "انمٹ داغ" قرار دیا ہے۔
سلطنت کا انتظام اور رقہ
میور کے مطابق ہارون نے حکومت کے آٹھ نو برس بعد بغداد چھوڑ کر شام کے شمال میں رقہ (Raqqa) کو اپنا مستقر بنا لیا، اور اس کی ظاہری وجہ شام کے علاقے پر نظر رکھنا بتائی جاتی ہے۔ عام طور پر اس منتقلی کا سال 796ء بتایا جاتا ہے۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق افریقیہ (موجودہ تیونس اور اطراف) کا صوبہ مہنگا اور بے چین تھا، چنانچہ 800ء میں ابراہیم بن اغلب کو وہاں کا حکمران تسلیم کر لیا گیا، اس شرط پر کہ وہ خلیفہ کی اطاعت کریں اور سالانہ خراج ادا کریں۔ یوں اغلبی خاندان کی بنیاد پڑی، جسے یہ ماخذ سلطنت کے بکھرنے کا نقطۂ آغاز قرار دیتا ہے۔
میور کے مطابق ہارون نے کئی بار حج کیا، اور قدیم مورخین کے مطابق ان کی وفات کے وقت سرکاری خزانے میں نوے کروڑ درہم موجود تھے۔
بازنطینیوں سے جنگیں
ہارون کے دور میں بازنطینی سلطنت سے جنگیں جاری رہیں، اور میور کے مطابق ہارون اکثر خود میدان میں جاتے تھے۔ 802ء میں نیکیفوروس اول (Nikephoros I) بازنطینی تخت پر بیٹھے تو انہوں نے خراج دینے سے انکار کرتے ہوئے ہارون کو ایک سخت خط لکھا۔ مورخین کے مطابق ہارون نے اسی خط کی پشت پر جواب لکھا کہ اس کا جواب "تم سنو گے نہیں، دیکھو گے"۔ اس کے بعد ایشیائے کوچک میں مہمات ہوئیں اور ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 806ء کی بڑی مہم کے بعد بازنطینی شہنشاہ کو مزید سخت شرائط پر صلح کرنی پڑی۔
شارلیمان اور دور دراز سفارتیں
ہارون کے دور کا ایک دلچسپ پہلو فرانکی بادشاہ شارلیمان (Charlemagne) سے تعلقات ہیں۔ شارلیمان کے ہم عصر سوانح نگار آئن ہارڈ (Einhard) لکھتے ہیں کہ دونوں حکمرانوں کے درمیان گہری دوستی تھی، شارلیمان کے سفیروں کو بیت المقدس کے مقدس مقامات تک رسائی دی گئی، اور ہارون نے شارلیمان کو کپڑے، مسالے اور ایک ہاتھی تحفے میں بھیجا۔ میور کے مطابق شارلیمان کے سفیروں کو دیے گئے تحائف میں ایک پانی کی گھڑی بھی شامل تھی، تاہم مسلمان مورخین نے اس سفارت کا ذکر نہیں کیا۔ میور ہی کے مطابق ہارون نے ایک سفارت چین کے شہنشاہ کے پاس بھی بھیجی۔
علم و ادب کا دور
میور کے مطابق ہر طرف سے اہلِ علم ان کے دربار کا رخ کرتے تھے اور خطابت، شاعری، تاریخ، قانون، سائنس، طب اور موسیقی کی سرپرستی کی جاتی تھی، جس کے ثمرات بعد کے ادوار میں سامنے آئے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بغداد کا مشہور کتب خانہ اور علمی ادارہ "بیت الحکمہ" بھی اسی دور میں قائم ہوا، جہاں یونانی علوم کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، اگرچہ اس ادارے کی ترقی کا بڑا حصہ بعد کے خلیفہ المامون کے دور سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔
جانشینی اور آخری ایام
ہارون نے اپنے بیٹے الامین کو پہلا اور المامون کو دوسرا ولی عہد مقرر کیا، اور سلطنت کے مشرقی حصے کا انتظام المامون کے سپرد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ منصوبہ ناکام رہا اور ہارون کی وفات کے بعد دونوں بھائیوں میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔
زندگی کے آخری برسوں میں سمرقند میں رافع بن لیث کی بغاوت نے ہارون کو مشرق کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ میور کے مطابق وہ 808ء کے اواخر میں رقہ سے روانہ ہوئے، راستے میں بیمار پڑ گئے اور مارچ 809ء میں خراسان کے شہر طوس میں انتقال کر گئے، جہاں انہیں دفن کیا گیا۔
تاریخ اور داستان
ہارون الرشید "الف لیلہ و لیلہ" (Thousand and One Nights) کی کئی کہانیوں میں ایک کردار کے طور پر آتے ہیں، جن میں وہ بھیس بدل کر بغداد کی گلیوں میں گھومتے ہیں۔ مگر یہ کہانیاں صدیوں میں مختلف علاقوں میں جمع ہوئیں اور ان کا مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں تھا۔ میور کے الفاظ میں مشرقی داستانوں کے "سحر" نے ہارون کی زندگی کے گرد ایک مصنوعی چمک پیدا کر دی، لیکن تاریخ کی سادہ حقیقتوں کے بعد بھی ان کے دور کی شان و شوکت حیران کن رہتی ہے۔
مورخین ہارون کے بارے میں ملی جلی رائے رکھتے ہیں۔ میور انہیں عباسی خاندان کے قابل ترین حکمرانوں میں شمار کرتے ہیں اور ان کی انتظامیہ کو مجموعی طور پر منصفانہ اور خوشحال قرار دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی ان کے بعض سخت اقدامات پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ میور کے مطابق جرمن مورخ گستاف وائل (Gustav Weil) کی رائے اس سے کہیں زیادہ سخت تھی۔
ہارون الرشید کا دور بغداد کی شان، علمی سرپرستی اور دور دراز کی سفارتوں کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے، جبکہ ان کی جانشینی کا منصوبہ ان کے بعد ایک طویل خانہ جنگی کا سبب بنا۔ داستانوں کا ہارون اور تاریخ کا ہارون ایک ہی شخص ہیں، مگر دونوں کو الگ پہچاننا ضروری ہے۔
ماخذ
- Syed Muhammad Khan, "Abbasid Dynasty", World History Encyclopedia, 2020. https://www.worldhistory.org/Abbasid_Dynasty/
- Sir William Muir, The Caliphate: Its Rise, Decline, and Fall, from Original Sources, Smith, Elder & Co., London, 1898 (chapter LXIII, Harun al-Rashid). https://archive.org/details/caliphateitsrise00muiruoft
- Eginhard (Einhard) and the Monk of St Gall, Early Lives of Charlemagne, ed. and trans. A. J. Grant, Project Gutenberg eBook no. 48870. https://www.gutenberg.org/ebooks/48870
- Wikipedia, "Harun al-Rashid" (pointer only: birthplace, date of the Barmakid fall, move to Raqqa, treasury figure). https://en.wikipedia.org/wiki/Harun_al-Rashid







