رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 23° / 9°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:03مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابہرنائی: بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات، ضلعی ٹورنامنٹ پر اتفاقعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستتربت: جامعہ تربت کے بی ایس بوٹنی طلبہ کا جوسک کے طفیل ایگریکلچرل فارم کا تحقیقی دورہریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں زرعی آمدنی ٹیکس اور محکمہ مال کا بارہواں جائزہ اجلاسٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ اور معائنہامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیتنے کی پوزیشن میں، ٹرمپ کو بڑا دھچکادکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی صدارت میں انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ اجلاسگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا پشکان کے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا افتتاحگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا سربندن کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا دورہ

ایرانی شہزادے کی ساس کا 600 ہیروں والا قیمتی ہار چوری

ایرانی شہزادے کی ساس کا 600 ہیروں والا قیمتی ہار چوری

ویانا میں ایک میوزیم سے 600 سے زیادہ ہیروں سے سجا ایک ہار چوری کرنے والے دو افراد کی تلاش کے لیے بین الاقوامی کارروائی جاری ہے، دونوں افراد نے اس نمائش کا ٹکٹ خریدا تھا جس میں یہ ہار رکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں مشتبہ افراد نے ویانا کے میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس میں ہار رکھنے والے شیشے کے کیس کو توڑا اور پلاٹینم اور ہیروں سے بنا ہار لے کر فرار ہو گئے۔

واضح رہے کہ چوری ہونے والا ہار مصر کی ملکہ نازلی کا تھا جو انہوں نے 1939 میں اپنی بیٹی فوزیہ کی ایران کے اس وقت کے ولی عہد محمد رضا پہلوی سے شادی کے موقع پر پہنا تھا۔

اس ہار میں جڑے ہیروں کا مجموعی وزن 200 قیراط سے زیادہ تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہار کی مالیت 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

یہ واردات یورپ کے عجائب گھروں میں نوادرات کی بڑی چوریوں کے سلسلے کی تازہ ترین مثال ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں یورپ کے عجائب گھروں میں چوری کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں زیوارات، اور پینٹگز سمیت متعدد نوادرات چرانے کی وارداتیں ہوئیں، اسی تناظر میں اس نمائش میں سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے تھے۔

یہ ہار سابق مصری شاہی خاندان کے لیے تیار کیا گیا تھا، یہ مشہور جیولری کمپنی وان کلیف اینڈ آرپلز کی ایک نمائش کا حصہ تھا جو ستمبر تک میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس میں جاری رہنے والی تھی۔

پولیس عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ اگر کسی کے پاس ان کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ پولیس کو فراہم کرے، یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ملزمان میں سے ایک کے پاس غالباً اصلی آتشیں ہتھیار تھا، ہار قبضے میں لینے کے بعد وہ میوزیم کے جنوب میں واقع ویانا شٹاٹ پارک کی جانب فرار ہو گئے۔

ایم اے کے کی جنرل ڈائریکٹر للی ہولائن نے کہا کہ اتنی زیادہ مالیت کے ایک زیور کی چوری ہمارے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، ایم اے کے نے اس نمائش کے لیے خاص طور پر وین کلیف اینڈ آرپلز کے ساتھ مل کر ایک سکیورٹی منصوبہ تیار کیا تھا۔

ہولائن کے مطابق سکیورٹی کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا تھا اور تمام حفاظتی اقدامات بڑی احتیاط سے تیار کیے گئے تھے، اس مسلح چوری کے دوران عملے نے پُرسکون انداز میں ردِعمل دیا اور طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا اور اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں بڑے عجائب گھروں میں پیش آنے والے چوری کے ان گنت واقعات کے تناظر میں نمائش سے قبل ایم اے کے نے اپنے حفاظتی اقدامات کا مکمل جائزہ لیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو سپین کے ایک عجائب گھر سے قبل از تاریخ دور کے زیورات اور نوادرات کے ایک اہم ذخیرے کی بھی چوری کی گئی۔

اسی ماہ کے آغاز میں سسلی کے ایک عجائب گھر سے نشاۃ ثانیہ کے عہد کی چار پینٹنگز چوری کی گئیں، جبکہ سال کے آغاز میں پارما کے ایک عجائب گھر سے رینوا، سیزان اور ماتیس کی لاکھوں یورو کی مالیت کی پینٹنگز لے جائی گئیں۔

یہ وارداتیں پیرس کے لوور میوزیم میں گزشتہ سال اکتوبر میں دن دہاڑے ہونے والی اس دلیرانہ ڈکیتی کے بعد ہوئیں، جس میں ایک نقاب پوش گروہ نے انمول جواہرات چرا لیے تھے۔

یورپی پولیس ادارے یوروپول کے مطابق عجائب گھروں میں چوری کی وارداتیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ پرتشدد ہو گئی ہیں اور ان میں زور زبردستی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

موضوعات:
اشتہار