رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 20° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:05مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابہرنائی: بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات، ضلعی ٹورنامنٹ پر اتفاقعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستتربت: جامعہ تربت کے بی ایس بوٹنی طلبہ کا جوسک کے طفیل ایگریکلچرل فارم کا تحقیقی دورہریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں زرعی آمدنی ٹیکس اور محکمہ مال کا بارہواں جائزہ اجلاسٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ اور معائنہامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیتنے کی پوزیشن میں، ٹرمپ کو بڑا دھچکادکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی صدارت میں انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ اجلاسگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا پشکان کے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا افتتاحگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا سربندن کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا دورہ

بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انکار ناقابلِ فہم ہے: شیری رحمان

بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انکار ناقابلِ فہم ہے: شیری رحمان

غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ سرحد پار پانی کی تقسیم کیلئے ایک اہم عالمی مثال ہے، سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم، معلومات کے تبادلے اور تنازعات کے حل کا واضح نظام دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا اسے غیر فعال قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں، معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل یا نظر انداز کرنا سنگین قانونی سوالات پیدا کرتا ہے، ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہر کا طریقہ کار تنازعات کے حل کے دو الگ راستے ہیں، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم تنازع کا پُرامن حل چاہتے ہیں، پانی کسی نئے تنازع کا سبب نہیں بننا چاہیے، پاکستان جنوبی ایشیاء سے آگے علاقائی استحکام میں کردار ادا کر رہا ہے۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، پاکستان تنازع کے بجائے باہمی مفاد اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔

موضوعات:
اشتہار