دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپوزیشن مذاکرات کرے، ریاست پر سیاست کو ترجیح نہیں دے سکتے: طارق فضل چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور ملکی بقا کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ نفرت اور سیاسی محاذ آرائی سے ملک میں استحکام نہیں آ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے امن و امان کا قیام ناگزیر ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی تفریق اور باہمی کشمکش کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی کے حوالے سے چیلنجز موجود ہیں اور حکومت کو اس امر پر تشویش ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو کن ممالک کی جانب سے مالی معاونت اور جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو متعدد مسائل کا سامنا ہے اور وہاں پائیدار امن کا قیام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبے کے 12 اضلاع میں قائم کونسلوں میں اچھی شہرت اور کارکردگی کے حامل مقامی مشران کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق امن کے قیام کے بعد متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے گا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے اور اس مقصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اپنے 12 سالہ دور حکومت میں دہشت گردی کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور پولیس کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، اس لیے سیاسی قیادت کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی دہشت گردی کے واقعات میں جانیں قربان کی ہیں۔
انہوں نے معدنی وسائل کے حوالے سے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بانی پی ٹی آئی کے سائفر معاملے سے تشبیہ دی اور کہا کہ اگر معدنیات کی تلاش اور استخراج کے لیے عالمی کمپنیاں معاہدے کرتی ہیں تو مقامی آبادی کی صحت اور مفادات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے چاروں صوبوں کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے امن، استحکام اور ذمہ دارانہ حکمت عملی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں استحکام لانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان نے بھارت کو واضح برتری سے شکست دی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
مذاکراتی عمل کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کی اور یکے بعد دیگرے چار مسودے تیار کیے، تاہم اپوزیشن نے انہیں مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے بجائے صرف پانچ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی تھی، لیکن اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے رات ڈھائی بجے اتفاق رائے پیدا کرنے سے معذرت کر لی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگر اپوزیشن بات چیت کرنا چاہتی ہے تو حکومت اس کے لیے آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں گورنر راج چھ ماہ تک برقرار رہے گا، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کو امن کے مکمل قیام سے مشروط کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو سیاسی مفادات اور باہمی نفرت کی نذر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قومی سلامتی، امن اور ریاستی استحکام تمام سیاسی اختلافات سے مقدم ہیں۔











