رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 23° / 9°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:03مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابہرنائی: بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات، ضلعی ٹورنامنٹ پر اتفاقعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستتربت: جامعہ تربت کے بی ایس بوٹنی طلبہ کا جوسک کے طفیل ایگریکلچرل فارم کا تحقیقی دورہریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں زرعی آمدنی ٹیکس اور محکمہ مال کا بارہواں جائزہ اجلاسٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ اور معائنہامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیتنے کی پوزیشن میں، ٹرمپ کو بڑا دھچکادکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی صدارت میں انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ اجلاسگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا پشکان کے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا افتتاحگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا سربندن کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا دورہ

کے پی کی صورتحال پر سب گلے تک بھر چکے، سیاسی جماعتیں اور کتنا انتظار کریں گی: دانیال چودھری

کے پی کی صورتحال پر سب گلے تک بھر چکے، سیاسی جماعتیں اور کتنا انتظار کریں گی: دانیال چودھری

راولپنڈی (اعتماد ڈیسک): وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال سے سب کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کو طے کرنا ہوگا کہ وہ اور کتنا انتظار کریں گی، کیونکہ یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔

راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کی لہر ہے مگر کوئی اسے دیکھنے کو تیار نہیں؛ وزیراعلیٰ صوبے کے چکر لگا رہے ہیں اور کابینہ ناچنے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں کسٹم کے ملازمین جان سے گئے مگر کوئی ان کے گھر تک نہ گیا؛ ایس ایچ او داؤد اور کانسٹیبل فرہاد شہید ہوئے مگر وزیراعلیٰ کے پی کے سر پر جوں تک نہ رینگی، اور شہید کے بچے سوال کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کے پاس جنازے میں شرکت کا وقت کیوں نہ تھا۔

بیرسٹر دانیال نے سوال کیا کہ 15 سال میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے انہیں کس نے روکا تھا، ان کے لوگ پالیسی کے لیے افغانستان کی طرف دیکھتے ہیں اور صوبہ آگ کی لپیٹ میں ہے مگر وہ لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام مزید نہیں چل سکتا، ایک لکیر کھینچی جائے گی جس پر کوئی رعایت نہیں ہوگی؛ جو جماعت انہیں دہشت گرد کہنے سے ڈرتی ہے وہ ان کا حصہ ہے اور جو ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے وہ ان کی بی ٹیم ہے۔

اشتہار