قیمتی پتھروں کے لیے برانڈ پاکستان متعارف کرانے کی ہدایت، پائلٹ منصوبے کی سست روی پر وزیراعظم برہم

اسلام آباد (اعتماد ڈیسک): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں و جواہرات کے پائلٹ پراجیکٹ کی سست رفتاری پر ناراضی ظاہر کی ہے اور حکم دیا ہے کہ وقت کی حد مقرر کر کے ترجیحی بنیادوں پر لائحہ عمل پیش کیا جائے اور اس شعبے کے لیے برانڈ پاکستان متعارف کرایا جائے۔
اسلام آباد میں شعبے کی ترقی اور برآمدات بڑھانے سے متعلق جائزہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ کان کنی سے تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن تک پورا ایکو سسٹم تیار کیا جائے، کیونکہ غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے جلد قیام اور ماڈل مائنز کی تعمیر میں رکاوٹیں دور کرنے کا حکم دیا۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ سکردو کے علاقے حسین آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو گئی ہے، رقم موجود ہے اور تعمیر جلد شروع ہوگی؛ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کے مراکز کے لیے بھی جگہ چن لی گئی ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی جیولاجیکل میپنگ مکمل ہونے پر قیمتی پتھروں کی تلاش کے لیے 8 نئے بلاکس چنے گئے ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس سال سرکاری ترقیاتی بجٹ سے اس شعبے کے لیے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں میں 10 بینکوں کی 80 برانچوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے آئندہ ہفتے تک مکمل لائحہ عمل طلب کر لیا۔
وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک کے علاوہ مشیر وزیراعظم ہارون اختر اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی بھی اجلاس میں موجود تھے۔











