آئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاق

اسلام آباد: حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان آئی ایم ایف کی شرائط پر اہم قانون سازی کے حوالے سے اتفاق ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر کے چیمبر میں مذاکرات ہوئے۔ اہم قانون سازی سے متعلق بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رواں اجلاسوں میں پیش کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت قانون سازی اور مختلف قوانین میں مجوزہ ترامیم کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی حکومت کے وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں مالیاتی امور، ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل، سرکاری اداروں کی نجکاری اور مختلف شعبوں سے متعلق قانون سازی کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس بات پر مشاورت کی گئی کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق مجوزہ قانونی ترامیم اور مختلف بلز کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کس طریقہ کار کے تحت منظور کرایا جائے۔ مالیاتی امور سے متعلق بعض قوانین میں تبدیلیوں کے ساتھ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں ردوبدل سے متعلق شرائط بھی زیرِ غور آئیں۔
زیرِ غور قانون سازی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ان سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں ترامیم کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا جنہیں نجی شعبے کے حوالے کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں مجوزہ قانون سازی اور متعلقہ بلز کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے امور زیرِ بحث آئے۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے مصطفےٰ ایمپیکس کیس میں دیے گئے فیصلے کی روشنی میں بعض بلز کی منظوری کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم اور غذائی شعبوں سے متعلق بعض بلز بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن کے قانونی اور پارلیمانی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایسے بلز کی مخالفت نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔











