دبئی کی معیشت: 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی 473 ارب درہم رہی

دبئی: رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران دبئی کا جی ڈی پی 473 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ دبئی حکومت کی جانب سے جاری 2026 کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار کے مطابق نتائج مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں مالیاتی اور انشورنس کی سرگرمیاں، انسانی صحت اور سماجی بہبود، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن اور تعمیراتی شعبہ نمایاں ہیں۔
اماراتی میڈیا کے مطابق ڈیجیٹل دبئی کے تحت دبئی ڈیٹا اینڈ اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ یہ نتائج دبئی کی معیشت کی لچک، پیداواری بنیاد کے تنوع اور زیادہ قدر پیدا کرنے والے متعدد شعبوں میں جاری پیش رفت کو اجاگر کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کاروبار، سرمایہ کاری اور باصلاحیت افراد کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ مسابقتی صلاحیت مضبوط بنانے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
دبئی کی یہ کارکردگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب عالمی معاشی ماحول میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، جنہوں نے مختلف سرگرمیوں کو کم و بیش متاثر کیا۔ معاشی بنیاد کے تنوع نے ان اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی، جبکہ زیادہ قدر پیدا کرنے والے شعبوں میں مسلسل توسیع دیکھی گئی۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار
2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی تقریباً 473 ارب درہم رہی، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تقریباً 484 ارب درہم تھی، یعنی 2.3 فیصد کی معمولی کمی ہوئی۔ موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی تقریباً 505 ارب درہم رہی، جس میں 0.2 فیصد شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی۔
مالیاتی اور انشورنس سرگرمیوں میں 8.8 فیصد حقیقی نمو ہوئی اور ان کی ایڈڈ ویلیو بڑھ کر تقریباً 65.9 ارب درہم ہو گئی، جو 2025 کی اسی مدت میں 60.6 ارب درہم تھی۔ مجموعی ملکی پیداوار میں ان کا حصہ 14 فیصد رہا، جو گزشتہ سال 12.5 فیصد تھا۔ موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے اس شعبے میں 8.1 فیصد نمو ہوئی اور 64 ارب درہم کی ایڈڈ ویلیو پیدا ہوئی۔
انسانی صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں 14.3 فیصد حقیقی نمو ریکارڈ کی گئی۔ موجودہ قیمتوں کے حساب سے اس میں 16.7 فیصد اضافہ ہوا، اور مستقل قیمتوں پر ویلیو ایڈڈ بڑھ کر تقریباً 6.2 ارب درہم ہو گئی، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تقریباً 5.4 ارب درہم تھی۔
بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں مستقل قیمتوں پر 5.4 فیصد نمو ہوئی اور حقیقی ایڈڈ ویلیو تقریباً 10.2 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو پہلے تقریباً 9.7 ارب درہم تھی۔ موجودہ قیمتوں پر ان شعبوں کی ایڈڈ ویلیو تقریباً 10.6 ارب درہم رہی، جو 7.4 فیصد نمو ظاہر کرتی ہے۔
انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے میں مستقل قیمتوں پر 2.7 فیصد اور موجودہ قیمتوں پر 1.6 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ مستقل قیمتوں پر ایڈڈ ویلیو بڑھ کر تقریباً 24.7 ارب درہم ہو گئی، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تقریباً 24 ارب درہم تھی۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی سے منسلک سرگرمیوں میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔
تعمیراتی شعبے میں 2.4 فیصد حقیقی نمو ریکارڈ کی گئی اور مستقل قیمتوں پر اس کی ویلیو ایڈڈ تقریباً 33.2 ارب درہم تک پہنچ گئی۔ موجودہ قیمتوں پر اس شعبے کی ایڈڈ ویلیو تقریباً 35.3 ارب درہم رہی، جو 8.6 فیصد نمو کی نمائندگی کرتی ہے۔
سرکاری خدمات کے شعبے میں مستقل قیمتوں پر 2.9 فیصد اور موجودہ قیمتوں پر 5.7 فیصد نمو دیکھی گئی۔ تعلیمی سرگرمیوں میں بھی مستقل قیمتوں پر 1.2 فیصد اور موجودہ قیمتوں پر 1.5 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم کے ڈائریکٹر جنرل ہلال سعید المری نے کہا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں دبئی کا جی ڈی پی اس معیشت کی مضبوطی اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے، جسے عالمی سطح پر پائی جانے والی شدید غیر یقینی صورتحال کے دوران بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق مختلف اسٹریٹجک اور مستقبل پر مرکوز شعبوں میں مسلسل سالانہ نمو دبئی کی معاشی بنیادوں کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ان شعبوں پر مسلسل توجہ کی افادیت بھی ثابت کرتی ہے جو طویل مدتی ترقی کی تشکیل کریں گے۔











