نورا فتحی سکیش چندر شیکھر کیس میں گواہ طلب، عدالت سے حاضری میں استثنیٰ، سماعت 6 نومبر کو

نئی دہلی: راؤز ایونیو کورٹ نے مبینہ ملزم سکیش چندر شیکھر کے 200 کروڑ روپے کے بھتہ کیس میں اداکارہ و رقاصہ نورا فتحی کو پیشی سے ایک دن کا استثنیٰ دیتے ہوئے 6 نومبر 2026 کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
نورا فتحی کو استغاثہ کے گواہ کے طور پر طلب کیا گیا تھا، تاہم وہ سماعت میں حاضر نہ ہوئیں۔ ان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سمن بہت مختصر نوٹس پر ملا اور پہلے سے طے شدہ پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث وہ نہیں آ سکیں۔ وکلا نے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی، جس کے بعد کیس کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر کے نئے سمن جاری کیے گئے۔ بول چال میں خبر کے مطابق خصوصی جج گگن دیپ سنگھ نے استثنیٰ دیا اور بیان ریکارڈ کرانے کے لیے اس تاریخ کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔
نورا فتحی کی قانونی ٹیم نے بیان جاری کیا کہ وہ ملزم نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر ان کارروائیوں میں کسی جرم کا الزام ہے۔ انہیں صرف عدالت کی معاونت کے لیے بطور گواہ بلایا گیا ہے۔
کیس کی تحقیقات دہلی پولیس کا اکنامک آفینسز ونگ (ای او ڈبلیو) مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) کے تحت کر رہا ہے۔ الزام ہے کہ سکیش چندر شیکھر نے دہلی کی روہنی جیل میں قید کے دوران سرکاری افسران کا روپ دھار کر رینبیکسی کے سابق پروموٹر شیوندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ سے تقریباً 200 کروڑ روپے بٹورے۔
تفتیش کے دوران نورا فتحی کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا اور انہیں ضمنی چالان میں استغاثہ کی گواہ کے طور پر شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق سکیش چندر شیکھر سے ان کا رابطہ اس کی اہلیہ لیینا ماریہ پالوس کے ذریعے ہوا۔











