پی ایس ایکس میں مسلسل پانچویں ہفتے مندی، کے ایس ای-100 انڈیکس 162,375 پوائنٹس پر بند

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی مندی کا رجحان رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,550 پوائنٹس (0.95 فیصد) کمی کے بعد 162,375 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق خطے میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی محتاط سوچ نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے فیصلے سے قبل منافع وصولی بھی دیکھی گئی۔
پورے ہفتے میں انڈیکس 4,045 پوائنٹس، یعنی 2.47 فیصد گرا۔ یہ مسلسل پانچواں ہفتہ تھا جس میں انڈیکس نیچے آیا۔ ہفتے کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 166,698 اور کم ترین سطح 162,292 رہی۔ ہفتے کے آغاز پر پیر کو انڈیکس 454 پوائنٹس گر کر 165,966 پر آیا، منگل کو 814 پوائنٹس کمی کے بعد 165,152 رہا، بدھ کو 779 پوائنٹس بڑھ کر 165,931 پر پہنچا، جبکہ جمعرات کو 2,007 پوائنٹس کی کمی سے 163,924 پر بند ہوا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق مارکیٹ میں دونوں طرف اتار چڑھاؤ رہا اور سرمایہ کاروں نے ہفتہ وار تعطیل سے قبل سودے نمٹائے۔ انڈیکس نے دن کی بلند ترین سطح 163,987 کو چھوا، تاہم دوبارہ فروخت کے دباؤ سے 163,000 سے نیچے بند ہوا۔
میزان بینک، اینگرو ہولڈنگز، لکی سیمنٹ، حبکو، پی پی ایل، ایم سی بی، سسٹمز لمیٹڈ، این بی پی، او جی ڈی سی اور ایچ بی ایل نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 985 پوائنٹس کم کیے۔ انڈیکس کے شامل حصص میں 26 میں اضافہ اور 73 میں کمی ہوئی۔ ٹاپ لائن کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 416.6 ملین روپے کے حصص فروخت کیے۔
کاروباری سرگرمی محدود رہی۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق 38 کروڑ 40 لاکھ حصص کا لین دین ہوا اور مجموعی مالیت 18 ارب روپے رہی۔ سب سے زیادہ تقریباً 3 کروڑ 26 لاکھ حصص پی اے ایس ایل کے تبدیل ہوئے۔
آئندہ مارکیٹ میں 160 سے 168 ہزار پوائنٹس کے درمیان اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اعلان پر نظر ہوگی، جس میں مارکیٹ کو شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے تکنیکی تجزیے میں 160,000 کی جانب مزید گراوٹ اور 166,000 کے قریب مزاحمت کا امکان ظاہر کیا گیا۔











