وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور سے خطاب: بلوچستان کا اصل مسئلہ غلط بیانیہ ہے

لاہور: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے، اور حقائق اور تصور میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے دورِ حاضر میں بلوچستان کی درست تاریخ بیان نہیں کی جاتی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو لاہور میں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا، اور آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے مابین خلیج کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر اپنے نوجوانوں کو سن رہے ہیں۔
سیاسی لوگوں سے مذاکرات، ہتھیار اٹھانے والوں سے نہیں
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان کے مسئلے کو حقائق اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے حالات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی تاریخی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تاریخی حقائق اور اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔
افسران زمینی حقائق کا مشاہدہ کریں
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بیوروکریسی کی جانب سے صوبے میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بعض تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے بعض بیوروکریٹس بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تک افسران گراؤنڈ پر آ کر حالات کا مشاہدہ نہیں کریں گے، انہیں زمینی حقائق کا درست علم کیسے ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اور وہاں کے عوام کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق سے آگاہی ضروری ہے، اور پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں مقامی حالات، عوامی ضروریات اور حقیقی مسائل کو سامنے رکھنا ہوگا۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











