رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° جزوی بادل 20° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں، الہان عمر اور رشیدہ طلیب بھی کامیابحارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوشعبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب، مشی گن میں ری پبلکن مائیک راجرز کو شکستنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےریاست مین: ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے دیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیٹیکساس میں تاریخی الٹ پھیر: جیمز ٹیلاریکو 1988 کے بعد سینیٹ کی نشست جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹپاکستان انڈر 19 ٹیم ایشیا کپ کا ٹائٹل دفاع کرنے کے لیے پرعزم: شاہد انورگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہسرکاری اداروں میں اصلاحات آسان نہیں، مزاحمت کے باوجود تبدیلی کا عمل جاری رکھنا ہوگا: وزیر خزانہرجب بٹ کا مشکل وقت میں مسٹر پتلو کا ساتھ دینے کا اعلان

چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کا نیشنل ورکشاپ سے خطاب: 3,900 اسکول فعال، 14500 اساتذہ کی تقرری

چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کا نیشنل ورکشاپ سے خطاب: 3,900 اسکول فعال، 14500 اساتذہ کی تقرری
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی خدمت کو اولین فوقیت دیتی ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے عوامی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات یقینی بنانے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اقدامات شروع کیے ہیں جن کا مقصد طویل المدتی سماجی و اقتصادی استحکام ہے۔

وہ نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی سماجی و معاشی حالت تبدیل کرنے کے لیے دس سالہ جامع ترقیاتی منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، عوامی خدمات کی فراہمی میں اضافہ کرنا، اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی یقینی بنا کر صوبے کو ایک لچکدار اور خوشحال خطہ بنانا ہے۔

سیف سٹیز، چھوٹے کاروبار اور صاف پانی

انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور معیشت کی بہتری کے لیے شروع کیے گئے اسٹریٹجک پروجیکٹس میں انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ کے ذریعے مقامی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو تقویت دینے کے متعدد پروگرام شامل ہیں تاکہ روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ 9 شہروں میں سیف سٹیز پر کام شروع ہے، جبکہ میونسپل سروسز میں بہتری، شہروں اور دیہی علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی مستقل فراہمی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سمیت اہم منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

تعلیم: 700,000 سے زائد بچوں کا داخلہ

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ حکومت نے صوبے میں 3,900 اسکولوں کو فعال کیا جبکہ 14500 اساتذہ کی تقرریاں بھی کر دی گئی ہیں تاکہ اساتذہ کی کمی پوری ہو اور تعلیمی معیار بہتر ہو۔ 3,000 اسکولوں میں دو اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ رواں سال 279000 سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا گیا، جبکہ گزشتہ دو سال میں مجموعی طور پر 700,000 سے زائد بچوں کا انرولمنٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خالی آسامیاں پُر کرنے کے لیے رواں سال سے اے آئی ریکروٹمنٹ پالیسی نافذ کر دی ہے تاکہ شفافیت اور اہلیت یقینی بنائی جا سکے۔ سرکاری ڈھانچے میں غیر ضروری 8,000 آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں تاکہ اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہو۔ ہسپتالوں میں ادویات اور طبی ساز و سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود مستحکم پالیسیوں کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم ان اقدامات کے مستقل اور پائیدار نتائج کے لیے عوامی شراکت اور محکموں کی مربوط کوششیں ضروری ہیں۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

اشتہار