سرفراز بگٹی کی قومی میڈیا سے گفتگو: آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے اور اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی عمل، معدنیات و کان کنی، امن و امان، سیاسی معاملات اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتی بریفنگز
اس سے قبل وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز منعقد ہوئیں، جن میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو ملنے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔
منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں سماجی و اقتصادی شعبوں سے متعلق صوبائی حکومت کی حکمتِ عملی، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور اس شعبے کی ترقی کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بتایا گیا کہ معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کے لیے معاشی اور دیگر فوائد پیدا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔
داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، جبکہ سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی سے بھی وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔
سوال و جواب کا سیشن
بریفنگز کے بعد وزیر اعلیٰ کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں قومی میڈیا کے نمائندوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقی، سیاسی معاملات اور دیگر اہم امور پر سوالات کیے۔ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی ترجیحات کی وضاحت کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں، بلوچستان میں اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو وہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا علم نہیں؛ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کر سکتے، تاہم بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے ہیں اور حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر ہے۔
غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر کبھی کبھار درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے جس سے صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











