تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلت
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی سربراہی میں سبزی منڈی کو تربت شہر سے مضافاتی علاقے سری کہن منتقل کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی محبوب علی، ایگریکلچر آفیسر چاکر علی، ایس ڈی او واپڈا عبدالحلیم، سینیٹری انسپکٹر حبیب جالب، سبزی منڈی کے دکاندار غلام رسول اور فضل الرحمن، انجمن تاجران کیچ کے حاجی کریم بخش اور ایس آئی آسمی بجار سمیت دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔
منتقلی کی ضرورت
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تابش علی بلوچ نے خطاب میں کہا کہ سری کہن میں میونسپل کارپوریشن تربت کی جانب سے سبزی منڈی کی عمارت تیار کر لی گئی ہے، لہٰذا تربت شہر میں قائم تمام سبزی منڈیوں کے مالکان اپنی دکانیں اور کاروبار جلد از جلد نئی سبزی منڈی سری کہن منتقل کریں۔
انہوں نے کہا کہ تربت شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے، شہریوں کو آمد و رفت میں سہولت دینے اور بڑے مال بردار گاڑیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کے لیے شہر میں بڑی گاڑیوں کے داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس لیے سبزی منڈی کی منتقلی ناگزیر ہے تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھتے ہوئے شہری مسائل بھی موثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف کبزئی اور چیف آفیسر شعیب ناصر نے بھی خطاب میں منڈی کی منتقلی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دکانداروں پر واضح کیا کہ شہر میں ٹریفک کی بہتری اور انتظامی امور کو موثر بنانے کے لیے نئی سبزی منڈی کو فعال کرنا ضروری ہے۔
دکانداروں کا موقف
اجلاس کے دوران سبزی منڈی کے دکانداروں کے نمائندوں نے بھی اپنا موقف پیش کیا۔
انہوں نے منتقلی کے انتظامات مکمل کرنے اور کاروبار نئی جگہ منتقل کرنے کے لیے انتظامیہ سے چھ ماہ کی مہلت طلب کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور سبزی منڈی کو تربت شہر سے سری کہن منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
اجلاس میں انتظامیہ نے دکانداروں کو منتقلی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا کہ تربت شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، شہری نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون سے کام کریں گے۔











