جے یو آئی کوئٹہ کا انتباہ: سیاسی رہنماؤں سے ناروا سلوک نہ رکا تو بھرپور احتجاج کریں گے

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد نے کہا ہے کہ فارم 47 کے حکمران فرعونیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہوش کے ناخن لیں۔
انہوں نے کہا کہ چند روزہ جعلی اقتدار کے نشے میں سفید ریش اور باعزت سیاسی رہنماؤں کو حکومتی اہلکاروں کے ذریعے ڈرانا دھمکانا، گرفتار کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانا ریاستی طاقت کا بدترین ناجائز استعمال ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اقتدار کسی کو عوام کی تذلیل، سیاسی مخالفین کی توہین اور بنیادی حقوق پامال کرنے کا لائسنس نہیں دیتا۔ حکمران یاد رکھیں کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، لیکن ظلم، جبر اور سیاسی انتقام کی داستانیں تاریخ میں ہمیشہ سیاہ باب کے طور پر درج ہوتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور جماعتی رہنماؤں کے ساتھ توہین آمیز، دھمکی آمیز اور جابرانہ رویہ ترک نہ کیا تو جمعیت علماء اسلام بھرپور احتجاج پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
رہنماؤں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ عوام کے خادم بنیں، فارم 47 کے حکمرانوں کے ذاتی ملازم یا زرخرید غلام نہیں۔ سرکاری اہلکاروں کو تنخواہیں قومی خزانے سے عوام کی خدمت، قانون کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ملتی ہیں، نہ کہ جعلی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے، ان کی چمچہ گیری کرنے اور ان کے سیاسی مخالفین کو خوف زدہ کرنے کے لیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری مشینری کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا، قانون کو حکمرانوں کی خواہشات کے تابع کرنا اور سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرنا کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اپنی حدود میں رہیں، قانون کا احترام کریں اور سیاسی رہنماؤں کی عزت و وقار کا خیال رکھیں، بصورت دیگر جمعیت علماء اسلام عوامی اور جمہوری قوت کے ساتھ ہر غیر آئینی، غیر قانونی اور آمرانہ طرزِ عمل کے خلاف بھرپور آواز بلند کرے گی۔











