وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی: سرکاری محکموں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑا جائے

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اصلاحاتی تجاویز مرتب کرنے کے لیے اجلاس مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے مزید محکموں کی کارکردگی، انتظامی امور اور استعدادِ کار پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ محکموں کو فعال بنانے اور ان کی تنظیمِ نو سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے، سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کا معیار بلند کرنے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اصلاحات کا پیمانہ: عوام کو ملنے والی خدمات
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محکموں میں اصلاحات کو عملی نتائج سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، اور کسی بھی سرکاری ادارے کی افادیت کا تعین اس کی کارکردگی اور عوام کو دی جانے والی خدمات کے معیار سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر محکمہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرے اور اس کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال اور اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔ تنظیمِ نو اور اصلاحات کے عمل میں عملی ضروریات، انتظامی کارکردگی اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دی جائے تاکہ سرکاری مشینری زیادہ فعال اور جواب دہ بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور فرائض کی انجام دہی میں غیر ضروری رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، اور ہر محکمے کی ذمہ داریوں اور دائرۂ کار کا واضح تعین انتظامی بہتری اور کارکردگی میں اضافے میں مددگار ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کو زیادہ مؤثر بنانا اور عوام کو بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، اس لیے ایسی تجاویز کو ترجیح دی جائے جو شفافیت، جواب دہی اور کارکردگی کو فروغ دیں۔ اجلاس میں مختلف صوبائی محکموں کی موجودہ کارکردگی اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے پر غور کیا گیا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











